المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ باب: حِجر (حطیم) خانۂ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 1708
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني سليمان الأحول، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ وهو يطوف بالكعبة برجل يقودُ رجلًا بخِزامةٍ في أنفه، فقَطَعَه رسول الله ﷺ بيدِه، ثم أمرَهُ أن يقودَه بيدِه، قال: ومرَّ رسول الله ﷺ وهو يطوفُ برجلٍ قد رُبِقَ بسَيْرٍ بيدٍ أو رِجْلٍ أو بخَيطٍ، أو بشيء غير ذلك، فقَطَعَه رسولُ الله ﷺ وقال: "قُدْهُ بيَدِك". قال ابن جُريج: أخبرني بهذا أجمَعَ سليمانُ الأحولُ، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ ابن عباسٍ قال ذلك عن النبيِّ ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ طواف کے دوران ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دوسرے شخص کو اس کی ناک میں پڑی نکیل کے ذریعے کھینچ رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے کاٹ دیا، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے بھی گزرے جو ہاتھ، پاؤں یا کسی اور چیز کے ذریعے تسمے یا دھاگے سے بندھا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے بھی کاٹ دیا اور فرمایا: ”اسے اس کا ہاتھ پکڑ کر لے چلو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سعد العوفي، وقد توبع أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وابن جريج: هو عبد الملك، وسليمان الأحول: هو ابن أبي مسلم.
درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے، اور محمد بن سعد العوفی کی وجہ سے سند حسن ہے۔
فنی نکتہ: ابو عاصم سے مراد ضحاک بن مخلد، ابن جریج سے مراد عبدالملک اور سلیمان الاحول سے مراد ابن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه البخاري (1621) و (6702) عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد، مختصرًا: أنَّ النبي ﷺ رأى رجلًا يطوف بالكعبة بزمام أو غيره، فقطعه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1621، 6702) نے ابو عاصم النبیل کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو نکیل سے کعبہ کا طواف کر رہا تھا، آپ ﷺ نے اسے کاٹ دیا۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد 5/ (3442) و (3443)، والبخاري (1620) و (6703)، وأبو داود (3302)، والنسائي (4733) و (4734)، وابن حبان (3831) و (3832) من طرق عن ابن جريج، به.
الخِزامة، بالخاء المعجمة المكسورة وتخفيف الزاي: حَلْقة من شعر أو وَبَر، تجعل في الحاجز الذي بين مَنخِرَي البعير، يُشَدُّ فيها الزِّمام ليَسهُل انقياده إذا كان صعبًا. انظر "فتح الباري" لابن حجر 21/ 230.
حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً احمد، بخاری، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔
توضیح: "خِزامہ" بالوں یا اون کا وہ چھلا ہے جو اونٹ کی ناک کے درمیان ڈالا جاتا ہے تاکہ اسے قابو کرنا آسان ہو۔ (فتح الباری 21/230)
والسَّير: هو ما يُقدُّ من الجلود.
توضیح: "سیر" سے مراد چمڑے کا وہ تسمہ ہے جو کھال سے کاٹ کر بنایا جاتا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے، اور محمد بن سعد العوفی کی وجہ سے سند حسن ہے۔
فنی نکتہ: ابو عاصم سے مراد ضحاک بن مخلد، ابن جریج سے مراد عبدالملک اور سلیمان الاحول سے مراد ابن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه البخاري (1621) و (6702) عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد، مختصرًا: أنَّ النبي ﷺ رأى رجلًا يطوف بالكعبة بزمام أو غيره، فقطعه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1621، 6702) نے ابو عاصم النبیل کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو نکیل سے کعبہ کا طواف کر رہا تھا، آپ ﷺ نے اسے کاٹ دیا۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد 5/ (3442) و (3443)، والبخاري (1620) و (6703)، وأبو داود (3302)، والنسائي (4733) و (4734)، وابن حبان (3831) و (3832) من طرق عن ابن جريج، به.
الخِزامة، بالخاء المعجمة المكسورة وتخفيف الزاي: حَلْقة من شعر أو وَبَر، تجعل في الحاجز الذي بين مَنخِرَي البعير، يُشَدُّ فيها الزِّمام ليَسهُل انقياده إذا كان صعبًا. انظر "فتح الباري" لابن حجر 21/ 230.
حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً احمد، بخاری، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔
توضیح: "خِزامہ" بالوں یا اون کا وہ چھلا ہے جو اونٹ کی ناک کے درمیان ڈالا جاتا ہے تاکہ اسے قابو کرنا آسان ہو۔ (فتح الباری 21/230)
والسَّير: هو ما يُقدُّ من الجلود.
توضیح: "سیر" سے مراد چمڑے کا وہ تسمہ ہے جو کھال سے کاٹ کر بنایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1708 سے ماخوذ ہے۔