حدیث نمبر: 1653
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا كان في سفرٍ فبَدَا له الفجرُ قال: "سَمِعَ سامعٌ بحمدِ الله ونِعمتِه، وحُسنِ بَلائِه علينا، ربَّنا صاحِبْنا فأفضِلْ علينا، عائذًا (2) بالله من النار"، يقول ذلك ثلاثَ مراتٍ ويرفعُ بها صوته (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور فجر طلوع ہونے لگتی تو فرماتے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمت اور ہم پر اس کی بہترین آزمائش کو سن لیا، اے ہمارے رب! ہمارا ساتھی بن جا اور ہم پر اپنا فضل فرما، (میں یہ کلمات کہتا ہوں) آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے“، آپ ﷺ بلند آواز سے یہ کلمات تین مرتبہ دہراتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1653
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1653] [ترقيم الشركة 1642]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز): عائذ، بالرفع، والمثبت من (ص) وغالب مصادر التخريج، قال النووي في "شرح مسلم": هو منصوب على الحال، أي أقول هذا في حال استعاذتي واستجارتي بالله من النار. قلنا: والرفع هي رواية ابن حبان، والتقدير: أنا عائذٌ، وكلاهما له وجه.
اہم نکتہ: لفظ "عائذ": امام نووی کے نزدیک یہ منصوب ہے (حال کی بنا پر)، یعنی "اللہ سے پناہ مانگتے ہوئے"۔ جبکہ ابن حبان کی روایت میں یہ مرفوع ہے، جس کا مطلب ہے "میں پناہ مانگنے والا ہوں"۔ دونوں درست ہیں۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
الربيع بن سليمان: هو المرادي صاحب الشافعي، وأبو صالح: هو ذكوان السمان.
راوی پر جرح: ربیع بن سلیمان المرادی، امام شافعی کے شاگرد ہیں اور ابوصالح سے مراد ذکوان السمان ہیں۔
وأخرجه مسلم (2718)، وأبو داود (5086)، والنسائي (8777) و (10293)، وابن حبان (2701) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك المصنف له ذهول منه.

وقد أعلَّ ابن عمار الشهيد هذا الحديث في "علل الأحاديث في صحيح مسلم" (31) بأنَّ هذا الحديث إنما يعرف بعبد الله بن عامر الأسلمي عن سهيل، قال: وعبد الله بن عامر ضعيف الحديث، فيشبه أن يكون سليمان سمعه من عبد الله بن عامر. قلنا: وهذا إعلال ضعيف مبني على الظن لا دليل عليه، وخصوصًا أنَّ سليمان بن بلال لا يُعرف بتدليس، فلا يمنع أن يكون كلُّ من سليمان وعبد الله بن عامر سمعه من سهيل.

حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2718)، ابو داود اور نسائی نے ابن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: مصنف (حاکم) کا اسے مستدرک میں لانا سہو ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔ ابن عمار کا اس پر اعتراض ظن پر مبنی اور ضعیف ہے۔
وحديث عبد الله بن عامر أخرجه البزار (9077) من طريق أبي ضمرة أنس بن عياض، وابن خزيمة (2571) من طريق عبد العزيز بن أبي حازم وأبي ضمرة، كلاهما عن عبد الله بن عامر، عن سهيل بن أبي صالح، به. وكان ابن خزيمة قد قدّم إخراج طريق ابن وهب عن سليمان بن بلال، وقال بإثر الحديث: عبد الله بن عامر ليس من شرطنا في هذا الكتاب، وإنما خرجت هذا الخبر عن سليمان بن بلال عن سهيل، فكُتب هذا إلى جنبه.
حوالہ / مصدر: بزار اور ابن خزیمہ نے اسے عبد اللہ بن عامر الاسلمی کی سند سے بھی روایت کیا ہے، مگر ابن خزیمہ کے بقول ابن عامر ان کی شرط پر نہیں، اس لیے انہوں نے سلیمان بن بلال کی روایت کو ترجیح دی۔
قوله: "سمع سامع بحمد الله" قال ابن الأثير في "النهاية": أي: ليسمع السامع، وليشهد الشاهد حَمْدَنا الله على ما أحسن إلينا وأولانا من نعمه. وحُسْنُ البلاء: النعمة.
اہم نکتہ: "سمع سامع بحمد الله": ابن اثیر کہتے ہیں اس کا مطلب ہے: سننے والا سن لے اور گواہی دینے والا گواہی دے کہ ہم اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں۔ "حُسْنُ البلاء" سے مراد نعمت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1653 سے ماخوذ ہے۔