المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ قَرْيَةٍ يُرِيدُ دُخُولَهَا باب: اس بستی کو دیکھ کر دعا کرنا جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حفص بن مَيْسَرة، عن موسى بن عُقْبة، عن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، أنَّ كعبًا حدّثه، أنَّ صهيبًا صاحبَ النبي ﷺ حدَّثه: أنَّ النبي ﷺ لم يَرَ قريةً يريدُ دخولَها إلا قال حين يراها: "اللهم ربَّ السماواتِ السبع وما أظلَلْنَ، وربَّ الأَرَضِينَ السَّبع وما أقلَلْنَ، وربَّ الشياطينِ وما أضلَلْنَ، وربَّ الرِّياح وما ذَرَينَ، فإنا نسألُكَ خيرَ هذه القريةِ وخيرَ أهلِها، ونعوذُ بك من شرِّها وشرِّ أهلها وشرِّ ما فيها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو اسے دیکھتے ہی یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور ان تمام چیزوں کے رب جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے، اور ساتوں زمینوں اور ان تمام چیزوں کے رب جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے، اور شیطانوں اور ان کے رب جنہیں انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں اور ان کے رب جنہیں وہ اڑاتی پھرتی ہیں، ہم تجھ سے اس بستی کی خیر، اس کے مکینوں کی خیر اور اس میں موجود بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس بستی کے شر، اس کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود ہر برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسمه، كما اختلف في صحبته، وذكره العجلي وابن حبان في ثقات التابعين، وهو متابع، ومن دونه ثقات.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور ابومروان الاسلمی (والدِ عطاء) کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ان کے نام اور صحابیت میں اختلاف ہے، مگر عجلی اور ابن حبان نے انہیں ثقہ تابعین میں شمار کیا ہے۔
كعب: هو ابن ماتع الحِميَري، المعروف بكعب الأحبار.
راوی پر جرح: کعب سے مراد ابن ماتع الحمیری ہیں، جو "کعب الاحبار" کے نام سے مشہور ہیں۔
وأخرجه النسائي (8776) و (10302) عن عمرو بن سواد، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8776) نے عبد اللہ بن وہب کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2709) من طريق محمد بن أبي السري، عن حفص بن ميسرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2709) نے محمد بن ابی السری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وخالف حفص بنَ ميسرة عبدُ الرحمن بن أبي الزناد، فرواه عن موسى بن عقبة، عن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن مغيث، عن كعب، عن صهيب، عن النبي ﷺ.
سندی اختلاف: عبدالرحمن بن ابی الزناد نے اس میں حفص بن میسرہ کی مخالفت کی ہے اور سند میں ایک واسطے کا فرق کیا ہے۔
أخرجه النسائي (10303)، وقال: حفص بن ميسرة لا بأس به، وعبد الرحمن بن أبي الزناد ضعيف.
راوی پر جرح: امام نسائی کہتے ہیں کہ حفص بن میسرہ میں کوئی حرج نہیں، جبکہ عبدالرحمن بن ابی الزناد ضعیف راوی ہیں۔
ورواه محمد بن إسحاق، واختلف عليه فيه، فرواه محمد بن سلمة عنه، عن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، عن أبي مغيث - أو أبي معتب - بن عمرو، عن النبي ﷺ. هكذا أخرجه النسائي (10304) عن إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني، عن أبي جعفر النُّفيلي، عن محمد بن سلمة.
سندی اختلاف: محمد بن اسحاق سے اسے محمد بن سلمہ نے روایت کیا، مگر اس میں ابومغیث یا ابومعتب کے نام میں شک واقع ہوا ہے۔
ورواه أبو شعيب الحراني عن النفيلي عند الطبراني في "الكبير"22 / (902)، وأبي نعيم في "معرفة الصحابة" (7025)، عن محمد بن سلمة فقال عن ابن إسحاق: حدثني من لا أتهم (وتحرف في مطبوع الطبراني إلى: حدثني مولى لهم) عن عطاء بن أبي مروان به. فذكر واسطة بين ابن إسحاق وعطاء.
تفصیلِ روایت: طبرانی اور ابونعیم نے اسے ابن اسحاق کے طریق سے ایک ایسے مبہم شخص کے واسطے سے روایت کیا ہے جس پر وہ "تہمت نہیں لگاتے"۔
ورواه بوجود الواسطة المبهمة هارونُ بن أبي عيسى الشامي عن ابن إسحاق عند النسائي (10305).
سندی اختلاف: ہارون بن ابی عیسیٰ الشامی نے بھی نسائی کے ہاں ابن اسحاق سے اسے ایک مبہم واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه سلمة بن الفضل الأبرش عن ابن إسحاق عند الطبري في "تاريخه" 11/ 593، فسمّي الواسطة الحسنَ بن دينار، إلا أنه عنده من روايته عن محمد بن حميد الرازي عن سلمة بن الفضل، وابن حميد هذا حافظ إلا أنهم ليّنوه، فإن كان حفظ ذكر الحسن بن دينار فيه، فإن هذا الإسناد ضعيف جدًّا، فالحسن متروك الحديث.
علّت / فنی نکتہ: سلمہ بن الفضل نے اس مبہم واسطے کا نام "حسن بن دینار" بتایا ہے، مگر حسن بن دینار متروک الحدیث ہے، اس لیے یہ سند سخت ضعیف ہو جائے گی۔
وروي الحديث من وجه آخر عن كعب الأحبار، أخرجه النسائي (8775) و (10301) من طريق سليمان بن بلال، عن أبي سهيل بن مالك، عن أبيه مالك بن أبي عامر الأصبحي، عن كعب الأحبار، عن صهيب رفعه. وهذا إسناد صحيح إن شاء الله.
درجۂ حدیث: کعب الاحبار سے یہ روایت ایک دوسرے صحیح طریق سے مروی ہے جس میں سلیمان بن بلال عن ابی سہیل بن مالک کی سند ہے۔
وسيأتي الحديث برقم (2519) من طريق محمد بن عبد الحكم عن ابن وهب.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث آگے رقم (2519) پر محمد بن عبدالحکم عن ابن وہب کے طریق سے آئے گی۔