حدیث نمبر: 1641
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا محمد بن عبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيميّ، عن عمر بن الحكم بن ثَوْبان، عن أَبي لاسٍ الخُزاعي قال: حَمَلَنا رسولُ الله ﷺ على إبلٍ من إبل الصدقة ضِعافٍ للحج، فقلنا: يا رسولَ الله، ما نُرَى أَن تَحْمِلَنا هذه، فقال: "ما من بعيرٍ إلَّا على ذُروتِه شيطان، فاذكروا اسمَ الله إذا رَكِبتُموها كما أمرَكُم، ثم امتَهِنُوها لأنفُسِكم، فإنما يَحمِلُ اللهُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حج کے لیے صدقے کے اونٹوں میں سے چند کمزور اونٹ دیے، تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارا خیال نہیں کہ یہ ہمیں لے جا سکیں گے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، لہٰذا جب تم ان پر سوار ہو تو اللہ کا نام لو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان سے اپنے کام لو، کیونکہ اصل میں اللہ ہی سوار کر کے لے جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1641
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث عند أحمد في "المسند"، وصحابيه أبو لاس اختلف في اسمه، فقيل: عبد الله، وقيل: زياد.» [ترقيم الرساله 1641] [ترقيم الشركة 1630]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث عند أحمد في "المسند"، وصحابيه أبو لاس اختلف في اسمه، فقيل: عبد الله، وقيل: زياد.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند حسن ہے۔
راوی پر جرح: صحابی "ابو لاس" کے نام میں اختلاف ہے، بعض نے عبداللہ اور بعض نے زیاد کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17938) عن محمد بن عبيد الطنافسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17938) نے محمد بن عبید الطنافسی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17939) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن محمد بن إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم بن سعد الزہری عن محمد بن اسحاق کے طریق سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
وفي الباب عن حمزة بن عمرو الأسلمي وعن أبي هريرة سيأتيان بعد قليل.
متابعات و شواہد: اس باب میں حمزہ بن عمرو اور ابوہریرہ ؓ کی روایات آگے آئیں گی۔
وعن عمر بن الخطاب عند ابن السني في "عمل اليوم والليلة" (497).
متابعات و شواہد: حضرت عمر ؓ کی روایت ابن السنی کے ہاں موجود ہے۔
وعن ابن عمر عند الطبراني في "الأوسط" (6688).
متابعات و شواہد: حضرت ابن عمر ؓ کی روایت طبرانی (الاوسط 6688) میں ہے۔
وعن عبد الرحمن بن أبي عميرة، أخرجه مسدد كما في "المطالب العالية" 9/ 349.
متابعات و شواہد: عبدالرحمن بن ابی عمیرہ کی روایت مسدد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1641 سے ماخوذ ہے۔