حدیث نمبر: 1627
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا سفيان بن حَبيب، حدثنا حُمَيد الطويل، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "استَمتِعُوا من هذا البيت، فإنه قد هُدِمَ مرتين ويُرفَع الثالثةَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس گھر (بیت اللہ) سے جتنا ممکن ہو فائدہ اٹھا لو (یعنی کثرت سے طواف و عبادت کرو)، کیونکہ یہ دو مرتبہ ڈھایا جا چکا ہے اور تیسری مرتبہ اسے (آسمان کی طرف) اٹھا لیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1627
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد.» [ترقيم الرساله 1627] [ترقيم الشركة 1616]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوبکر بن اسحاق سے مراد احمد ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6753) من طريق الحسن بن قَزَعة، عن سفيان بن حبيب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6753) نے الحسن بن قزعہ عن سفیان بن حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله "هدم مرتين" قال المناوي في "التيسير بشرح الجامع الصغير" 1/ 150: أراد به هدمها عند الطوفان إلى أن بناها إبراهيم، وهدمها في أيام قريش، وكان ذلك مع إعادة بنائها وللمصطفى من العمر خمس وثلاثون.
اہم نکتہ: "دو بار ڈھایا جانا": علامہ مناوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد طوفانِ نوح سے لے کر تعمیرِ ابراہیمی تک، اور دوسرا قریش کے دور میں اس کا انہدام اور دوبارہ تعمیر ہے جب آپ ﷺ کی عمر 35 سال تھی۔
وقوله: ويُرفع "الثالثة" قال: بهدم ذي السُّويقتين له، والمراد رفع بركته.
اہم نکتہ: "تیسری بار اٹھایا جانا": اس سے مراد قیامت کے قریب "ذو السویقتین" کے ہاتھوں کعبہ کا انہدام اور اس کی برکت کا اٹھا لیا جانا ہے۔
وقال ابن خزيمة بإثر الحديث (2506): يريد بعد الثالثة، إذ رفع ما قد هدم محال، لأنَّ البيت إذا هدم لا يقع عليه اسم بيت إذا لم يكن هناك بناء.
اہم نکتہ: ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ تیسری بار سے مراد آخری انہدام ہے، کیونکہ انہدام کے بعد اسے "بیت" (گھر) نہیں کہا جائے گا جب تک کہ دوبارہ تعمیر نہ ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1627 سے ماخوذ ہے۔