المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
رُخْصَةُ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان۔
سمعتُ أبا عليٍّ الحافظ يقول: قلتُ لعَبْدان الأهوازيِّ: صحَّ أنَّ النبيَّ ﷺ احتَجَم وهو صائم؟ فقال: سمعتُ عباس العَنْبريَّ يقول: سمعتُ عليَّ بن المَدِيني يقول: قد صحَّ حديثُ أبي رافع عن أبي موسى، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "أفطَرَ الحاجمُ والمحجوم" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفي الباب عن جماعة من الصحابة بأسانيد مستقيمة مما يطول شرحُه في هذا الموضع.
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعلی حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدان اہوازی سے پوچھا: کیا یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے عباس عنبری سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابورافع کی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت صحیح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے (دونوں) کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے ایسی معتبر سندوں کے ساتھ روایات مروی ہیں جن کی تفصیل یہاں طوالت کا باعث ہوگی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: علی بن المدینی کا یہ اثر ابن خزیمہ (1964) نے عباس العنبری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔