المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
رُخْصَةُ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان۔
سمعتُ أبا بكر بن جعفر المزكِّي يقول: سمعتُ أبا بكر محمدَ بن إسحاق بن خُزيمةَ يقول: قد ثبتت الأخبار عن النبي ﷺ أنه قال: "أفطَرَ الحاجِمُ والمحجوم"، فقال بعضُ من خالَفَنا في هذه المسألة: إنَّ الحِجامة لا تُفطِّر الصائم، واحتجَّ بأنَّ النبي ﷺ احتَجَم وهو صائمٌ مُحرِم، وهذا الخبر غير دالٍّ على أنَّ الحجامة لا تُفطِّر الصائم، لأنَّ النبي ﷺ إنما احتَجَم وهو صائمٌ محرمٌ في سفرٍ لا في حَضَر، لأنه لم يكن قطُّ مُحرِمًا مقيمًا ببلده، إنما كان مُحرِمًا وهو مسافر، والمسافر (1) وإن كان ناويًا للصوم وقد مضى عليه بعضُ النهار وهو صائمٌ (2) الأكلُ والشربُ، وإن كان الأكلُ والشربُ يفطِّرانه، لا كما توهَّم بعضُ العلماء أنَّ المسافر إذا دَخَلَ في الصوم لم يكن له أن يُفطِر إلى أن يُتمَّ صومَه ذلك اليومَ الذي دَخَلَ فيه، فإذا كان له أن يأكلَ ويشربَ وقد دخل في الصَّوم ونواهُ ومضى بعضُ النهار وهو صائمٌ، جاز له أن يَحتجِم وهو مسافرٌ في بعض نهار الصوم، وإن كانت الحِجامة تفطِّره.
میں نے ابوبکر بن جعفر مزکی کو کہتے سنا کہ میں نے ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کو یہ فرماتے سنا: ”نبی کریم ﷺ سے یہ احادیث پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“، تو اس مسئلے میں ہمارے بعض مخالفین نے یہ موقف اپنایا کہ حجامت (پچھنے لگوانے) سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی کہ نبی کریم ﷺ نے احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے، حالانکہ یہ خبر اس بات کی قطعی دلیل نہیں ہے کہ حجامت سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے احرام اور روزے کی حالت میں حجامت سفر کے دوران کروائی تھی نہ کہ اقامت کی حالت میں، چونکہ آپ ﷺ کبھی بھی اپنے شہر میں مقیم رہ کر محرم نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ سفر کی حالت ہی میں محرم ہوتے تھے، اور مسافر اگرچہ روزے کی نیت کر لے اور دن کا کچھ حصہ روزے کی حالت میں گزار چکا ہو، تب بھی اسے کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے، جیسا کہ بعض علماء کا یہ گمان درست نہیں ہے کہ مسافر اگر ایک بار روزہ شروع کر دے تو اسے اس دن کا روزہ ہر صورت پورا کرنا ضروری ہے، لہٰذا جب مسافر کے لیے سفر کی رخصت کی بنا پر کھانا پینا جائز ہے حالانکہ وہ روزے کی نیت کر چکا ہوتا ہے، تو اس کے لیے سفر کے دوران دن کے کسی حصے میں حجامت کروانا بھی جائز ہے اگرچہ اس حجامت سے اس کا روزہ ٹوٹ رہا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں "بن" لکھا ہے، لیکن ابن خزیمہ کے مطابق درست لفظ "وللمسافر" (اور مسافر کے لیے) ہے جس سے کلام واضح ہوتا ہے۔
(2) تحرف في المطبوع إلى: مباح.
توضیح: مطبوعہ نسخوں میں یہ لفظ تحریف کی وجہ سے "مباح" ہو گیا ہے۔