حدیث نمبر: 145
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد ابن زياد القَبَّاني، حدثنا داود بن رُشيد، حدثنا مُعمَّر (2) بن سليمان، عن عبد الله بن بشر، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر، عن عمر قال: دَخَلَ رجلان على رسول الله ﷺ فسألاهُ في شيءٍ، فدعا لهما بدينارين، فإذا هما يُثنيان خيرًا، فقال: "لكن فلانٌ ما يقول ذلك، ولقد أعطيتُه ما بين عشرةٍ إلى مئة فما يقول ذلك، فَإِنَّ أحدكم ليخرُجُ بصدقتِه من عندي متأبِّطَها، وإنما هي له نارٌ" فقلت: يا رسول الله، كيف تُعطيه وقد علمت أنه له نار؟ قال: "فما أصنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يسألوني، ويأبى الله لي البخل" (3). أما معمَّر بن سليمان الرَّقِّي فلم يخرجاه، وقد خرَّج مسلم عن عبد الله بن بشر الرَّقِّى (1)، إلّا أنَّ هذا الحديث ليس بعِلَّةٍ لحديث الأعمش عن أبي صالح، فإنه شاهد له بإسناد آخر.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسی چیز کا سوال کیا، آپ ﷺ نے ان کے لیے دو دینار منگوائے، وہ دونوں آپ کی تعریف کرنے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن فلاں شخص ایسی بات نہیں کرتا، حالانکہ میں نے اسے دس سے سو (دینار) کے درمیان عطا کیے ہیں مگر وہ ایسی تعریف نہیں کرتا، بے شک تم میں سے کوئی میرے پاس سے اپنی لی ہوئی خیرات کو اپنی بغل میں دبا کر نکلتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے آگ ہوتی ہے“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے کیوں دیتے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کے لیے آگ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟ وہ مانگنے کے سوا کسی بات پر راضی نہیں ہوتے، اور اللہ کو میرا بخل کرنا پسند نہیں۔“
معمر بن سلیمان الرقی کی تخریج شیخین نے نہیں کی، حالانکہ امام مسلم نے عبداللہ بن بشر الرقی سے تخریج کی ہے، مگر یہ حدیث اعمش عن ابی صالح کی حدیث کے لیے علت نہیں ہے بلکہ دوسرے اسناد سے اس کے لیے شاہد ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 145
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وانظر الكلام عليه في الحديث السابق» [ترقيم الرساله 145] [ترقيم الشركة 144]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في المطبوع في الموضعين إلى: معتمر.
فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخے میں دونوں مقامات پر نام "معمر" سے تحریف ہو کر "معتمر" ہو گیا ہے۔
(3) حديث صحيح، وانظر الكلام عليه في الحديث السابق. الأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو سفيان: هو طلحة بن نافع الواسطي، وجابر: هو ابن عبد الله ﵄.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: سند میں موجود الاعمش سے مراد سلیمان بن مہران، ابوسفیان سے مراد "طلحہ بن نافع واسطی" اور جابر سے مراد "حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ" ہیں۔
وأخرجه البزار (235) عن نهار بن عثمان، عن معمر بن سليمان، بهذا الإسناد - وتحرَّف فيه معمَّر إلى: معتمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے (235) میں نہار بن عثمان عن معمر بن سلیمان کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں بھی نام معمر سے معتمر میں تبدیل ہو گیا ہے۔
(1) هذا ذهولٌ، فإن مسلمًا لم يخرج له شيئًا.
فنی نکتہ / علّت: مصنف سے یہاں سہو ہوا ہے، کیونکہ امام مسلم نے اس راوی سے کوئی روایت نقل نہیں کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 145 سے ماخوذ ہے۔