المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ مِنَ السُّنَّةِ باب: نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 1441
أخبرنا أبو علي محمد بن عليٍّ الواعظ ببُخارى، حدثنا علي بن عبد الله بن مُبشِّرٍ الواسطي، حدثنا أحمد بن سِنَان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، قال: صلَّى ابنُ عباسٍ على جنازةٍ، فقرأ بفاتحة الكتاب، فقلتُ له، فقال: إنَّه من السُّنة، أو من تَمَامِ السُّنة (2).
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھایا اور اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، یا (فرمایا) یہ سنت کی تکمیل میں سے ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة.
وأخرجه الترمذي (1027) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ سفیان بن عیینہ اور امام شافعی اس کے راوی ہیں۔ ترمذی (1027) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1335)، وأبو داود (3198) من طريق محمد بن كثير، عن سفيان بن عيينة، به فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1335) اور ابوداؤد (3198) نے محمد بن کثیر عن سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں سہو ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1340).
فنی نکتہ: نمبر (1340) ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرجه الترمذي (1027) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ سفیان بن عیینہ اور امام شافعی اس کے راوی ہیں۔ ترمذی (1027) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1335)، وأبو داود (3198) من طريق محمد بن كثير، عن سفيان بن عيينة، به فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1335) اور ابوداؤد (3198) نے محمد بن کثیر عن سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں سہو ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1340).
فنی نکتہ: نمبر (1340) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1441 سے ماخوذ ہے۔