المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
التَّكْبِيرُ عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا باب: نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنے کا بیان۔
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْدٍ الأنطاكي، حدثنا الهَيثَم بن جَمِيل، حدثنا مُبارَك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أنس قال: كبَّرتِ الملائكةُ على آدمَ أربعًا، وكبَّر أبو بكرٍ على النبيِّ ﷺ أربعًا، وكبَّر عمرُ على أبي بكرٍ أربعًا، وكبَّر صُهيبٌ على عمرَ أربعًا، وكبَّر الحسنُ بن عليٍّ على عليٍّ أربعًا، وكبَّر الحسينُ على الحسنِ أربعًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والمُبارَك بن فَضَالة من الزُّهد والعلم بحيثُ لا يُجرَح مثلُه، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه لِسوءِ حفظِه. ولهذا الحديث شاهد:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ زہد و علم کے اس مقام پر ہیں کہ ان جیسے راوی پر جرح نہیں کی جاتی، البتہ شیخین نے ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ان کی روایات نہیں لیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث درج ذیل ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) سند ضعیف ہے اور متن میں "نکارت" (اجنبی بات) ہے۔ مبارک بن فضالہ مدلس ہیں اور حاکم کی اس روایت میں دو باتیں مشہور روایات کے خلاف ہیں: ایک یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا (حالانکہ مشہور یہ ہے کہ اکیلے اکیلے نماز پڑھی گئی) اور دوسرا حضرت حسن کے جنازے کی امامت کا تذکرہ۔
وأخرجه الدارقطني (1816) من طريق محمد بن الوليد القلانسي، عن الهيثم بن جميل، بهذا الإسناد. وقال بإثره: محمد بن الوليد هذا ضعيف.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (1816) نے روایت کیا ہے مگر اس کے راوی محمد بن ولید کو ضعیف قرار دیا ہے۔