حدیث نمبر: 1383
أخبرنا أبو حفص عمر بن أحمد الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة؛ قالا: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن أبي وائل، عن أبي الهَيّاج قال: قال لي عليّ: ألا أَبعثُكَ على ما بَعَثَني عليه النبيُّ ﷺ، فذكر الحديث بنحوه (2).
حافظ طلحہ بابر

ابوالہیاج بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس کام پر مامور نہ کروں جس پر نبی کریم ﷺ نے مجھے مامور فرمایا تھا؟“ پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كالذي قبله.» [ترقيم الرساله 1383] [ترقيم الشركة 1371]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح كالذي قبله.
درجۂ حدیث: (2) پچھلی روایت کی طرح سند صحیح ہے۔
وأخرجه مسلم (969) عن ابن أبي شيبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (969) نے ابن ابی شیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (741) و (1064)، ومسلم (969) من طريق وكيع، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور مسلم نے وکیع کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (969)، والنسائي (2169) من طريق يحيى بن سعيد القطان، وأبو داود (3218) عن محمد بن كثير، كلاهما عن سفيان الثوري، به. زاد يحيى القطان: "ولا صورة إلّا طمستها".
حوالہ / مصدر: اسے مسلم، نسائی (2169) اور ابوداؤد (3218) نے یحییٰ القطان اور سفیان ثوری کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ کی روایت میں "تصویر مٹانے" کا بھی ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1383 سے ماخوذ ہے۔