❮
❯
حدیث نمبر: 1317
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن شاذانَ الجَوْهَري ببغداد، حدثنا أبي، حدثنا معلَّى بن منصور، حدثنا قَزَعة بن سُوَيد، عن حُمَيد الأعرج، عن الزُّهري، عن محمود بن لَبِيد، عن شَدَّاد بن أوْس قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا حَضَرتُم الميِّتَ فأَعْمِضُوا البَصَرَ، فإِنَّ البَصَرَ يَتْبعُ الرُّوحَ، وقولوا خيرًا، فإنَّ الملائكة تؤمِّن على دُعاء أهل البيت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی میت کے پاس حاضر ہو تو (اس کی وفات کے بعد) آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نگاہ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (اس وقت) صرف خیر کی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الجنائز / حدیث: 1317
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1317] [ترقيم الشركة 1305]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قزعة بن سويد. حميد الأعرج: هو ابن قيس المكي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب.
درجۂ حدیث: (2) یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند قزعہ بن سوید کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ حمید الاعرج سے مراد ابن قیس المکی اور زہری سے مراد محمد بن مسلم بن شہاب ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17136)، وابن ماجه (1455) من طريقين عن قزعة بن سويد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17136/28) اور ابن ماجہ (1455) نے قزعہ بن سوید سے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أم سلمة عند مسلم (920)، وسيأتي عند المصنف برقم (6911).
متابعات و شواہد: اس کی شاہد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح مسلم (920) میں ہے، جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (6911) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1317 سے ماخوذ ہے۔