حدیث نمبر: 1258
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن بالَوَيهِ الجَلَّاب، قالا: حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: خَسَفَت الشمسُ على عهد رسول الله ﷺ فقال: "إنَّ الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يَنخسِفان لموت أحدٍ ولا لحياته، فإذا رأيتموهما فتصدَّقوا وصلُّوا وكبِّروا وادْعُوا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر

عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں (کے گرہن) کو دیکھو تو صدقہ کرو، نماز پڑھو، تکبیر کہو اور اللہ سے دعا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الكسوف / حدیث: 1258
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، معاوية بن عمرو: هو الأزدي، وزائدة: هو ابن قدامة» [ترقيم الرساله 1258] [ترقيم الشركة 1247]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، معاوية بن عمرو: هو الأزدي، وزائدة: هو ابن قدامة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه مختصرًا كرواية المصنف أبو داود (1191) من طريق مالك بن أنس، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1191) نے امام مالک عن ہشام کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو قطعة من حديث الكسوف الطويل، سلف تخريجه عند الحديث رقم (1249) بما يغني عن إعادته هنا.
(توضیح): یہ نمازِ کسوف کی طویل حدیث کا ایک حصہ ہے، اس کی مکمل تخریج نمبر (1249) پر گزر چکی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1258 سے ماخوذ ہے۔