حدیث نمبر: 1253
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن قَبِيصةَ الهِلالي قال: كَسَفتِ الشمسُ على عهد رسول الله ﷺ، فخرج فَزِعًا يجرُّ ثوبه، وأنا معه يومئذٍ بالمدينة، فصلى ركعتين، فأطال فيهما القيام، ثم انصرف وانجَلَت، فقال: "إنما هذه الآياتُ يخوِّف الله بها، فإذا رأيتُموها - يعني - فصلُّوا كأحدَثِ صلاةٍ صلَّيتُموها من المكتوبة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما علَّلاه بحديث رَيْحان بن سعيد، عن عبَّاد بن منصور، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن هلال بن عامر، عن قَبِيصة، وحديثٌ يرويه موسى بن إسماعيل عن وُهَيب لا يعلِّله حديثُ ريحان وعبّاد (1).
حافظ طلحہ بابر

ابوقلابہ، قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ ﷺ گھبرائے ہوئے نکلے، اپنی چادر گھسیٹ رہے تھے، اور اس دن میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ میں موجود تھا، پس آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں طویل قیام کیا، پھر آپ ﷺ نے نماز مکمل کی اور گرہن ختم ہو چکا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ ڈراتا ہے، پس جب تم انہیں دیکھو، یعنی گرہن کو، تو ایسی نماز پڑھو جیسی تم نے تازہ ترین فرض نماز پڑھی ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرے نزدیک انہوں نے اسے ریحان بن سعید کی عباد بن منصور سے، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ہلال بن عامر سے، انہوں نے قبیصہ کے واسطے سے مروی حدیث کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، حالانکہ موسى بن اسماعیل کی وہیب سے مروی حدیث کو ریحان اور عباد کی حدیث معلول نہیں کرتی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الكسوف / حدیث: 1253
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، أبو قلابة - وهو عبد الله بن زيد الجَرمي - لم يسمع هذا الحديث من قبيصة، ذكر ذلك البيهقي في "السنن" 3/ 334، بينهما هلال بن عامر - وقيل: عمرو - كما في رواية أبي داود (1186)، وهلال بن عامر هذا لا يُعرف كما قال الذهبي في "الميزان"، ...» [ترقيم الرساله 1253] [ترقيم الشركة 1242]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، أبو قلابة - وهو عبد الله بن زيد الجَرمي - لم يسمع هذا الحديث من قبيصة، ذكر ذلك البيهقي في "السنن" 3/ 334، بينهما هلال بن عامر - وقيل: عمرو - كما في رواية أبي داود (1186)، وهلال بن عامر هذا لا يُعرف كما قال الذهبي في "الميزان"، ثم إنَّ في إسناده اضطرابًا، فقد روي الحديث من طريق أيوب - وهو ابن أبي تميمة - عن أبي قلابة عن النعمان بن بشير، كما سلف برقم (1250)، وقد بيَّنا علله هناك. وُهَيب: هو ابن خالد، وصحابيه قبيصة الهلالي: هو قبيصة بن المخارق أبو بشر.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے؛ ابوقلابہ کا قبیصہ سے سماع ثابت نہیں (بیہقی)۔ درمیان میں ہلال بن عامر کا واسطہ ہے جو کہ غیر معروف (مجہول) ہے۔ اس میں سندی اضطراب بھی ہے۔
وأخرجه أبو داود (1185) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1185) نے موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20607) عن عبد الوهاب الثقفي، والنسائي (1884) من طريق عبيد الله بن الوازع، كلاهما عن أيوب، به. وجعله عبد الوهاب مرّةً من حديث النعمان بن بشير كما سلف عند حديثه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (20607/34) اور نسائی (1884) نے ایوب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه النسائي (1885) عن محمد بن المثنى، عن معاذ بن هشام، عن أبيه، عن قتادة، عن أبي قلابة، عن قبيصة. وفيه: أنه صلَّى ركعتين ركعتين.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1885) نے قتادہ عن ابی قلابہ عن قبیصہ کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے دو دو کر کے رکعتیں پڑھیں۔
(1) حديث ريحان بن سعيد عن عباد بن منصور، أخرجه أبو داود (1186) كما سلفت الإشارة إليه قبل قليل، وعباد بن منصور فيه ضعف. وقد بيَّنا أنَّ هذه ليست العلة الوحيدة، بل هناك اضطراب وشذوذ أيضًا، والله أعلم.
درجۂ حدیث: (1) ریحان بن سعید کی روایت (ابوداؤد 1186) ضعیف ہے کیونکہ عباد بن منصور ضعیف راوی ہے اور اس میں اضطراب و شذوذ بھی پایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1253 سے ماخوذ ہے۔