فحدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق، قالا: حدثنا محمد بن رافع، حدثني إبراهيم بن الحَكَم بن أبان، حدثني أبي، حدثني عكرمة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعمِّه العباس … فذكر الحديث (1). هذا الإرسال لا يُوهِن وصلَ الحديث، فإنَّ الزيادة من الثقة أَولى من الإرسال، على أن إمامَ عصره في الحديث إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قد أقام هذا الإسناد عن إبراهيم بن الحَكَم بن أبان ووَصَلَه:
تو علی بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن ابی طالب اور محمد بن اسحاق نے، ان دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن رافع نے، انہیں ابراہیم بن حکم بن ابان نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عکرمہ نے روایت کیا کہ: رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا... (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مرسل ہونا حدیث کے متصل (موصول) ہونے کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ کسی ثقہ راوی کی طرف سے سند میں (صحابی کے نام کی) زیادتی مرسل کے مقابلے میں زیادہ اولیٰ اور قابلِ قبول ہوتی ہے، مزید یہ کہ اس عہد کے امامِ حدیث اسحاق بن ابراہیم حنظلی (ابن راہویہ) نے اس سند کو ابراہیم بن حکم بن ابان کے واسطے سے قائم رکھا ہے اور اسے متصل بیان کیا ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) حدیث "حسن" ہے مگر یہ سند ابراہیم بن حکم کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے محمد بن رافع نے مرسل جبکہ اسحاق بن ابراہیم نے موصول روایت کیا ہے، اور موصول ہی راجح ہے۔
وهو في "صحيح" محمد بن إسحاق بن خزيمة بإثر الحديث (1216).
حوالہ / مصدر: یہ صحیح ابن خزیمہ میں نمبر (1216) کے بعد موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي 3/ 52 من طريق حاجب بن أحمد، عن محمد بن رافع، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (52/3) نے حاجب بن احمد عن محمد بن رافع کی سند سے روایت کیا ہے۔