❮
❯
حدیث نمبر: 1208
حدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن هارون بن سليمان الحَضْرمي، حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل، حدثنا موسى بن عبد العزيز أبو شُعيب القِنْباري، فذكر الحديث بمثله لفظًا واحدًا (2). فأمّا حالُ موسى بن عبد العزيز:
حافظ طلحہ بابر

(سابقہ حدیث کی تائید میں مروی روایت، جس کے الفاظ بعینہٖ وہی ہیں)۔ جہاں تک موسیٰ بن عبدالعزیز کے حال کا تعلق ہے:

فحدثني أبو الحسن محمد بن محمد بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سَهْل بن عَسْكَر قال: سمعت عبد الرزاق، وسُئل عن أبي شُعيب القِنْباري، فأحسنَ عليه الثناءَ. وأمّا حالُ الحَكَم بن أبان:
حافظ طلحہ بابر

ابوالحسن محمد بن محمد بن یعقوب نے مجھ سے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے، انہیں محمد بن سہل بن عسکر نے، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرزاق کو سنا کہ جب ان سے ابو شعیب القنباری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ان کی بہت عمدہ تعریف و توصیف کی۔ جہاں تک حکم بن ابان کے علمی مقام کا تعلق ہے:

فأخبرني أحمد بن محمد بن واصل البِيكَنْدي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسماعيل البخاري، حدثنا علي بن المَدِيني، عن ابن عُيينة قال: سألتُ يوسف بن يعقوب: كيف كان الحَكَم بن أبان؟ قال: ذاك سيدُنا. وأما إرسال إبراهيم بن الحَكَم بن أبان هذا الحديث عن أبيه:
حافظ طلحہ بابر

تو مجھے احمد بن محمد بن واصل بیکندی نے بتایا، انہیں ان کے والد نے، انہیں محمد بن اسماعیل بخاری نے، انہیں علی بن مدینی نے اور انہوں نے ابن عیینہ سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یوسف بن یعقوب سے پوچھا کہ حکم بن ابان (بطور راوی) کیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ تو ہمارے سردار (بزرگ) تھے۔ جہاں تک ابراہیم بن حکم بن ابان کا اپنے والد سے اس حدیث کو مرسل بیان کرنے کا تعلق ہے:

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1208
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه» [ترقيم الرساله 1208] [ترقيم الشركة 1197]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: (2) پچھلی روایت کی طرح سند "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1208 سے ماخوذ ہے۔