المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
الزَّجْرُ عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِلَا عُذْرٍ باب: بغیر عذر دو نمازوں کو جمع کرنے پر سخت ممانعت۔
حدیث نمبر: 1034
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون بن عبد الله، حدثنا أَبي، حدثنا أبو داود الحَفَري، حدثني حفص بن غِيَاث، عن حُمَيد، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة أنها قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يصلِّي متربِّعًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا (2) على إخراج حديث حُميدٍ عن عبد الله بن شَقِيق عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يصلِّي ليلًا طويلًا قائمًا، الحديث. وحميدٌ هذا: هو ابن تِيرَوَيهِ الطويلُ بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1021 - على شرطهما_x000D_
إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا» الْحَدِيثَ «وَحُمَيْدٌ هَذَا هُوَ ابْنُ تِيرَوَيْهِ الطَّوِيلِ بِلَا شَكٍّ فِيهِ»حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چوکڑی مار کر (متربعاً) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے «حميد عن عبدالله بن شقيق عن عائشه» کی اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو طویل قیام کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، اور اس سند میں حمید سے مراد بلاشبہ حمید طویل ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو داود الحفري: هو عمر بن سعد الكوفي، وحميد: هو الطويل.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوداؤد الحفری سے مراد عمر بن سعد اور حمید سے مراد الطویل ہیں۔
وأخرجه النسائي (1367) عن هارون بن عبد الله الحمّال، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1367) نے ہارون بن عبداللہ الحمال کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2512) من طريق محمد بن عبد الله المخرَّمي، عن أبي داود الحفري، به. وقد سلف برقم (960).
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2512) نے مخرومی عن ابی داؤد الحفری کی سند سے روایت کیا ہے۔ یہ پہلے نمبر (960) پر گزر چکی۔
(2) بل هو عند مسلم وحده برقم (730) (109).
فنی نکتہ: (2) بلکہ اسے صرف امام مسلم نے نمبر (730/109) پر روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوداؤد الحفری سے مراد عمر بن سعد اور حمید سے مراد الطویل ہیں۔
وأخرجه النسائي (1367) عن هارون بن عبد الله الحمّال، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1367) نے ہارون بن عبداللہ الحمال کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2512) من طريق محمد بن عبد الله المخرَّمي، عن أبي داود الحفري، به. وقد سلف برقم (960).
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2512) نے مخرومی عن ابی داؤد الحفری کی سند سے روایت کیا ہے۔ یہ پہلے نمبر (960) پر گزر چکی۔
(2) بل هو عند مسلم وحده برقم (730) (109).
فنی نکتہ: (2) بلکہ اسے صرف امام مسلم نے نمبر (730/109) پر روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1034 سے ماخوذ ہے۔