باب: جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی وجہ سے عزت کرے گا اللہ تعالیٰ اس (نوجوان) کے بڑھاپے میں اس کے لئے ایسا شخص مقرر فرما دے گا جو اس کی عزت کرے گا
حدیث 801–802
باب: جو گھر خوشیوں سے بھرتا ہے وہ عبرت ونصیحت سے ضرور بھرتا ہے
حدیث 803–803
باب: جس بندے کو اللہ نے عوام کا حاکم بنایا پھر اس نے ان کی خیر خواہی نہ کی اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے
حدیث 804–804
باب: جس بندے کو اللہ تعالیٰ ٰ عوام کا حاکم بنائے (اور ) وہ اپنی موت کے دن اس حال میں مرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہوتو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے ۔
حدیث 805–806
باب: مسلمانوں میں سے کوئی آدمی نیک وزیر سے زیادہ اجر والا نہیں جو کسی حاکم کے ساتھ رہے اس کی اطاعت کرے اور اسے ذات باری تعالیٰ ٰ کی اطاعت کرنے کا حکم دے
حدیث 807–808
باب: ہر مؤمن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ دنیا چھوڑ جاتا ہے اور بے شک مومن بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے جب ، اسے (توبہ کی ) یاد دہانی کرائی جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے ۔
حدیث 809–809
باب: جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دو پہلوؤں میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو جلد نعم البدل عطا فرما اور کنجوسی کرنے والے کے مال کو جلد تلف کر دے
حدیث 810–810
باب: دو خونخوار بھیڑیے جو بکریوں کے باڑے میں ہوں اس میں (نقصان کرنے میں ) وہ بھی اتنی جلدی نہیں کرتے جتنی کہ مال و جاہ کی محبت مسلمان بندے کے دین میں (نقصان پہنچانے میں ) کرتی ہے
حدیث 811–813
باب: دین میں فقہ ( سمجھ داری) سے افضل اللہ کی کوئی عبادت نہیں کی گئی
حدیث 814–814
باب: صلہ رحمی سے بڑھ کر کوئی چیز ایسی نہیں جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس کا ثواب جلد ملے
حدیث 815–815
باب: جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے لہٰذا تم بے نیازی اختیار کرو
حدیث 816–822
باب: تم میں سے ہر ایک بس حد سے تجاوز کر دینے والی تو نگری کا منتظر ہے
حدیث 823–824
باب: مومن کو جو بھی کوئی تھکاوٹ مرض بخار ، تکلیف اور غم پہنچتا ہے حتیٰ کہ وہ پریشانی جو اسے رنجیدہ کر دے تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے
حدیث 825–825
باب: بندہ ہمیشہ مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ الله تعالیٰ ٰ سے جاملتا ہے ( روز قیامت وہ اس حال میں اللہ سے ملے گا) کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہیں ہوگا
حدیث 826–826
باب: مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا
حدیث 827–828
باب: جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا
حدیث 829–830
باب: دعا ہی قضا کو ٹال سکتی ہے اور نیکی ہی عمر دراز کرسکتی ہے
حدیث 831–833
باب: بردباری ٹھوکریں کھانے ہی سے آتی ہے
حدیث 834–835
باب: جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں
حدیث 836–838
باب: بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی
حدیث 839–839
باب: اسلام میں ( جاہلیت والا نیا ) کوئی عہد و پیمان نہیں
حدیث 840–841
باب: اسلام میں صرورہ (گوشہ نشینی اختیار کرنا، شادی نہ کرنا یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا) نہیں
حدیث 842–843
باب: فتح (مکہ ) کے بعد ہجرت نہیں
حدیث 844–847
باب: جس میں امانت نہیں اس کا ایمان نہیں
حدیث 848–850
باب: دم صرف نظر یا ڈنگ کی وجہ سے ہے
حدیث 851–851
باب: تین دن سے زیادہ ترک تعلق (جائز) نہیں ہے
حدیث 852–852
باب: استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیر نہیں رہتا
حدیث 853–853
باب: قرض کے غم کے سوا کوئی غم نہیں
حدیث 854–854
باب: اس شخص کے لیے کوئی فاقہ نہیں جو قرآن پڑھتا ہے
حدیث 855–855
باب: اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے (یعنی اس معاملے میں دو رائے نہیں ہیں)
حدیث 856–858
باب: احتیاط تقدیر سے بچا نہیں سکتی
حدیث 859–862
باب: مومن دھو کے سے قتل نہیں کرتا
حدیث 863–863
باب: وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی جس پر عورت حکمرانی کرے
حدیث 864–865
باب: مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے
حدیث 866–867
باب: صدیق کے شایان شان نہیں کہ وہ بڑا لعنت کرنے والا ہو
حدیث 868–868
باب: دو رُخے آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ا للہ ہاں امین ہو
حدیث 869–869
باب: عجز و بے بسی کا اظہار والدین اور عادل حکمران کے سامنے ہی مناسب ہے
حدیث 870–870
باب: بھلائی کرنا کسی خاندانی یا دیندار شخص کے پاس ہی مناسب ہے
حدیث 871–872
باب: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں
حدیث 873–873
باب: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو
حدیث 874–875
باب: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا
حدیث 876–876
باب: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے
حدیث 877–879
باب: کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق رکھے
حدیث 880–883
باب: کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں
حدیث 884–885
باب: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہ ہوں گے جب تک ان کی نافرمانیوں کی کثرت نہ ہو جائے
حدیث 886–886
باب: کسی شخص کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل درست نہ ہو جائے
حدیث 887–887
باب: بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے اسی طرح خیر و بھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے
حدیث 888–889
باب: بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ یقین نہ کر لے کہ بے شک جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے چوک نہیں سکتا تھا اور جو اسے نہیں پہنچا وہ اسے ( کسی صورت) پہنچ نہیں سکتا تھا
حدیث 890–891
باب: بندہ اس وقت تک ایمان کو مکمل نہیں کر سکتا جب تک اس میں تین خصلتیں نہ ہوں : تنگدستی میں خرچ کرنا ، اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرنا اور سلام کو عام کرنا
حدیث 892–892
باب: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان کی حقیقت مکمل نہیں کر سکتا جب تک اپنی زبان قابو میں نہ کر لے
حدیث 893–893
باب: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا
حدیث 894–894
باب: مومن اپنے پڑوسی کو ( بھوکا ) چھوڑ کر شکم سیر نہیں ہوتا
حدیث 895–896
باب: عالم علم سے سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی انتہا جنت ہوتی ہے
حدیث 897–897
باب: ( دنیا کا) معاملہ مزید سنگین ہی ہوتا جائے گا
حدیث 898–902
باب: لوگوں پر جو بھی دور آئے گا وہ اپنے سے پہلے دور سے برا ہوگا
حدیث 903–903
باب: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ مرد کم اور عورتیں زیادہ نہ ہو جائیں
حدیث 904–904
باب: جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو اللہ روز قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا
حدیث 905–906
باب: اس شخص کی صحبت میں کوئی بھلائی نہیں جو تیرے لیے اسی طرح خیر کا خواہش مند نہ ہو جس طرح تو اس کے لیے ہے
حدیث 907–907
باب: جس بندے کی دو محبوب چیزیں (آنکھیں) چلی جائیں پھر وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو وہ جنت میں داخل ہوگا
حدیث 908–908
باب: بندہ اس وقت تک متقی لوگوں کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ مشکوک امور سے بچنے کے لیے ان امور کو بھی نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں ہے
حدیث 909–912
باب: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے
حدیث 913–914
باب: بندے کی روح اس کے قرض کی وجہ سے ہمیشہ معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کی طرف سے ادا نہ کردیا جائے
حدیث 915–915
باب: بندہ جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے وہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے
حدیث 916–916
باب: اپنے بھائی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار مت کر ( کہیں ایسا نہ ہو ) کہ اسے اللہ تعالیٰ ٰ عافیت دے دے اور تجھے آزمائش میں ڈال دے
حدیث 917–919
باب: زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق ) ہے
حدیث 920–921
باب: حاکم کو گالی نہ دو کیونکہ وہ اللہ کا اس کی زمین میں سایہ ہے
حدیث 922–922
باب: مُردوں کو گالی نہ دو کیونکہ انہوں نے جو آگے بھیجا ہے اسے وہ حاصل کر چکے ہیں
حدیث 923–924
باب: مُردوں کو گالی نہ دو کہ (اس سے ) تم زندوں کو تکلیف دو گے
حدیث 925–925
باب: آدمی اپنے بھائی کا ہدیہ واپس نہ کرے پھر اگر وہ (اپنے پاس کچھ ) پائے تو ضرور اچھا بدلہ دے
حدیث 926–926
باب: اس شخص کے کپڑے سے اپنا ہاتھ مت صاف کر جس کو تو نے پہنایا نہیں
حدیث 927–928
باب: سائل کو ( خالی ہاتھ ) نہ لوٹاؤ اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو
حدیث 929–932
باب: مسلمانوں کی غیبت نہ کرو
حدیث 933–933
باب: کسی کا عیب ہرگز نہ ظاہر کرو
حدیث 934–934
باب: نیکی کے کسی بھی کام کو ہرگز نہ حقیر سمجھو
حدیث 935–935
باب: اپنے بھائی سے ایسا وعدہ نہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے
حدیث 936–936
باب: تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہو موت کی تمنا ہرگز نہ کرے
حدیث 937–937
باب: ہر شخص کو بس اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو
حدیث 938–938
باب: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور نہ خریداری کی نیت کے بغیر بولی میں اضافہ کرو
حدیث 939–939
باب: تم عیب جوئی کرنے والے بنو نہ مدح وتعریف کرنے والے
حدیث 940–940
باب: کسی عمل کرنے والے کے عمل پر اس وقت تک تعجب نہ کرو جب تک تم یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے
حدیث 941–941
باب: کسی شخص کا اسلام تمہیں اس وقت تک بھلا نہ لگے جب تک تم یہ نہ جان لو کہ اس کی عقل کی گہرائی کتنی ہے
حدیث 942–943
باب: مجھے سوار (مسافر) کے پیالہ کی طرح مت بناؤ
حدیث 944–944
باب: لوگوں کا خوف تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے ہرگز نہ روکے جبکہ وہ اسے جانتا ہو
حدیث 945–945
باب: کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے
حدیث 946–946
باب: اللہ کی ناراضی سے کسی کو ہرگز راضی نہ کر
حدیث 947–947
باب: امارت نہ مانگنا
حدیث 948–948
باب: قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ اولاد غیظ وغضب کا باعث نہ بنے
حدیث 949–949
باب: مشورے کے بعد بندہ ہرگز بر باد نہیں ہوتا
حدیث 950–950
باب: رعایا ہرگز ہلاک نہ ہوگی خوہ وہ ظالم ہو
حدیث 951–951
باب: اس چیز سے بچو جس سے (بعد میں ) معذرت کرنی پڑے
حدیث 952–952
باب: مدح سرائی سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنا ہے
حدیث 953–954
باب: معمولی سمجھے جانے والے گناہوں سے بچو
حدیث 955–955
باب: لوگوں کی رائے لینے سے بچو
حدیث 956–956
باب: گندی جگہوں میں پیدا ہونے والے سبزے سے بچو
حدیث 957–957
باب: قرض سے بچو
حدیث 958–958
باب: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے
حدیث 959–959
باب: مظلوم کی بددعا سے بچو خواہ وہ کافر ہی ہو
حدیث 960–960
باب: بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں
حدیث 961–966
باب: بے شک میری امت امت مرحومہ ہے
حدیث 967–970
باب: دوستی نبھانا ایمان میں سے ہے
حدیث 971–972
باب: بے شک حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے
حدیث 973–974
باب: بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں
حدیث 975–975
باب: بے شک دین آسان ہے
حدیث 976–976
باب: بے شک اللہ کا دین سیدھا اور آسان ہے
حدیث 977–977
باب: بے شک سب سے جلد جس بھلائی کا بدلہ ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے
حدیث 978–978
باب: بے شک حکمت شریف آدمی کی شرافت میں اضافہ کرتی ہے
حدیث 979–979
باب: بے شک حلال چیز کو حرام کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے حرام کو حلال کرنے والا
حدیث 980–981
باب: بے شک دنیا والوں کا حسب یہ مال ہے
حدیث 982–982
باب: بے شک صاحب حق کوبات کرنے کا حق ہے
حدیث 983–984
باب: بے شک اعلیٰ اخلاق اہل جنت کے اعمال میں سے ہیں
حدیث 985–985
باب: بے شک بہترین حسن، حسن خلق ہے ۔
حدیث 986–986
باب: بے شک قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں شمار ہوتا ہے
حدیث 987–988
باب: بے شک اہل جنت کی اکثریت بھولے بھالے لوگوں کی ہوگی
حدیث 989–990
باب: بے شک جنت کے رہنے والوں میں عورتیں بہت کم ہیں
حدیث 991–991
باب: بے شک بندے پر مدد ذمہ داری کے بقدر آتی ہے
حدیث 992–992
باب: بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والدکے دوستوں سے صلہ رحمی کرے
حدیث 993–994
باب: بے شک شیطان ابن آدم (کے اندر ) اس طرح دوڑتا ہے جس طرح خون گردش کرتا ہے
حدیث 995–995
باب: بے شک لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر گزار وہ ہے جو لوگوں کا زیادہ شکر ادا کرنے والا ہو
حدیث 996–998
باب: بلاشبہ اس مال کا ملنا آزمائش ہے
حدیث 999–999
باب: بے شک اس امت کا عذاب اس کی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے
حدیث 1000–1000
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔