کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس نے اپنے بھائی سے دنیاوی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی اللہ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا اور جس نے اپنے بھائی کی عیب پوشی کی اللہ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا اور الله اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے
حدیث نمبر: 476
476 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَرَّجَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى أَخِيهِ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ» . قَالَ عَلِيٌّ: وَبَلَغَنِي أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْأَعْمَشُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی سے دنیاوی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی اللہ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا اور جس نے اپنے بھائی کی عیب پوشی کی اللہ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا اور اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔“ راوی علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ”رجل“ سے مراد اعمش ہے (جس سے محمد بن واسع نے روایت کیا ہے)۔
حدیث نمبر: 477
477 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، نا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ثنا الْفَرَبْرِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 478
478 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، نا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرْضِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، نا جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ أَبُو مُحَمَّدٍ، نا سَحْنُونُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ التَّنُوخِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ عز و جل اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک سائل کھڑا ہوا، اس نے آپ سے سوال کیا لیکن آپ نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سائل سے منہ نہیں پھیرا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس سے کسی غرض و مصلحت کے تحت ہی منہ پھیرا ہے، میں یہ چاہ رہا تھا کہ تم میں سے کوئی اس کے لیے سفارش کر دیتا تاکہ اسے بھی اجر مل جاتا، کیونکہ اللہ عزوجل مسلمان کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے اور جسے یہ بات پسند ہو کہ اسے پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دیکھے کہ اس کے نزدیک اللہ کا کیا مقام و مرتبہ ہے کیونکہ اللہ بھی بندے کو اسی مقام پر رکھتا ہے جہاں بندہ اپنے رب کو رکھتا ہے۔ “ [شعب الايمان: 2447، وسندہ صحيح]
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک سائل کھڑا ہوا، اس نے آپ سے سوال کیا لیکن آپ نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سائل سے منہ نہیں پھیرا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس سے کسی غرض و مصلحت کے تحت ہی منہ پھیرا ہے، میں یہ چاہ رہا تھا کہ تم میں سے کوئی اس کے لیے سفارش کر دیتا تاکہ اسے بھی اجر مل جاتا، کیونکہ اللہ عزوجل مسلمان کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے اور جسے یہ بات پسند ہو کہ اسے پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دیکھے کہ اس کے نزدیک اللہ کا کیا مقام و مرتبہ ہے کیونکہ اللہ بھی بندے کو اسی مقام پر رکھتا ہے جہاں بندہ اپنے رب کو رکھتا ہے۔ “ [شعب الايمان: 2447، وسندہ صحيح]