باب: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
حدیث 1–2
باب: مجلسیں امانت ہیں
حدیث 3–3
باب: جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہوتا ہے
حدیث 4–5
باب: وعدہ عطیہ ہے
حدیث 6–6
باب: وعدہ ایک قرض ہے
حدیث 7–7
باب: جنگ چال بازی کا نام ہے
حدیث 8–12
باب: ندامت توبہ ہے
حدیث 13–14
باب: جماعت رحمت اور افتراق عذاب ہے
حدیث 15–15
باب: امانت مالداری ہے
حدیث 16–16
باب: دین خیر خواہی (کا نام) ہے
حدیث 17–19
باب: حسب مال اور بزرگی تقویٰ ہے
حدیث 20–21
باب: نیکی عادت اور بدی جھگڑا ہے
حدیث 22–22
باب: نرم ہونا نفع مند اور سخت ہونا نحوست ہے
حدیث 23–23
باب: احتیاط بد گمانی ہے
حدیث 24–24
باب: اولاد بخل اور بزدلی (کا باعث ) ہے
حدیث 25–26
باب: فحش گوئی بداخلاقی میں سے ہے
حدیث 27–27
باب: قرآن دواء ہے
حدیث 28–28
باب: دعا ہی عبادت ہے
حدیث 29–30
باب: قرض دین میں عیب کا باعث ہے
حدیث 31–31
باب: تدبیر نصف زندگی، باہمی الفت و محبت نصف عقل، غم نصف بڑھاپا اور قلت عیال ایک طرح کی تونگری ہے
حدیث 32–32
باب: اچھا سوال نصف علم ہے
حدیث 33–33
باب: سلام کلام سے پہلے ہے
حدیث 34–34
باب: رضاعت طبیعت کو بدل دیتی ہے
حدیث 35–35
باب: برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے
حدیث 36–37
باب: عمل کا سرمایہ اس کا اختتام ہے
حدیث 38–38
کتاب کا شرف اس کا خاتمہ ہے
حدیث 39–39
باب: دین کا سرمایہ پرہیزگاری ہے
حدیث 40–40
باب: خشیت الٰہی ہر دانائی کی جڑ اور پرہیزگاری عمل کی سردار ہے
حدیث 41–41
باب: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا اس کے چہرے پر عیب کا باعث ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا جہنم کی آگ ہے
حدیث 42–43
باب: نعمتوں کو بیان کرنا شکر ادا کرنا ہے
حدیث 44–45
باب: صبر کے ساتھ کشائش و خوشحالی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے
حدیث 46–47
باب: روزہ ڈھال ہے
حدیث 48–49
باب: ضامن تاوان بھرنے والا ہے
حدیث 50–50
باب: نرمی دانائی کی جڑ ہے
حدیث 51–51
باب: دانائی کی بات ہر دانا کی متاع گم گشتہ ہے
حدیث 52–52
باب: نیکی حسن خلق ( کا نام ) ہے
حدیث 53–54
باب: جوانی جنون کا حصہ، عورتیں شیطانی جال، شراب گناہوں کا مجموعہ ، خیانت جہنم کا انگارہ اور نوحہ عمل جاہلیت ہے۔ نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے اور بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو۔
حدیث 55–56
باب: شراب تمام خباثتوں کی جڑ ہے
حدیث 57–57
باب: بخار موت کا پیش خیمہ ہے
حدیث 58–59
باب: بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے
حدیث 60–61
باب: بخار ہر مومن کے لیے جہنم کی آگ کا بدل ہے
حدیث 62–62
باب: قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا
حدیث 63–63
باب: امانت داری رزق لاتی ہے اور خیانت محتاجی لاتی ہے
حدیث 64–64
باب: صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے
حدیث 65–65
باب: زنا محتاج کر دیتا ہے
حدیث 66–66
باب: آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے
حدیث 67–67
باب: عمامے عربوں کا تاج ہیں
حدیث 68–68
باب: حیا سراسر خیر ہے
حدیث 69–70
باب: حیا خیر ہی لاتی ہے
حدیث 71–71
باب: مسجد ہر متقی کا گھر ہے
حدیث 72–73
باب: جھوٹ باتوں کی تباہی ہے، نسیان علم کی تباہی ہے، بے وقوفی حلم کی تباہی ہے، سستی عبادت کی تباہی ہے، مبالغہ آرائی ظرافت کی تباہی ہے، سرکشی شجاعت کی تباہی ہے، احسان جتلانا سخاوت کی تباہی یے ، غرور حسن کی تباہی ہے اور فخر حسب و نسب کی تباہی ہے۔
حدیث 74–75
باب: نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہو
حدیث 76–76
باب: ندامت و شرمندگی گناہ کا کفارہ ہے
حدیث 77–77
باب: جمعہ مسکینوں کا حج ہے
حدیث 78–79
باب: حج ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے اور عورت کا جہاد خاوند کے ساتھ اچھی گزران ہے۔
حدیث 80–81
باب: حلال کی طلب جہاد ہے
حدیث 82–82
باب: پردیس کی موت شہادت ہے
حدیث 83–83
باب: علم سے روکنا جائز نہیں ہے
حدیث 84–84
باب: حاضر شخص جو کچھ دیکھتا ہے غائب شخص وہ نہیں دیکھ پاتا
حدیث 85–85
باب: نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے
حدیث 86–86
باب: لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں پیئے
حدیث 87–87
باب: ہر نیکی صدقہ ہے ۔
حدیث 88–90
باب: لوگوں کی خاطر مدارت کرنا بھی صدقہ ہے
حدیث 91–92
باب: اچھی بات کرنا صدقہ ہے
حدیث 93–93
باب: جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت بچائے تو اس کے عوض بھی اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے
حدیث 94–95
باب: قرابت داروں پر صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی
حدیث 96–96
باب: صدقہ بری موت کو روکتا ہے
حدیث 97–98
باب: پوشیدہ صدقہ رب تعالیٰ ٰ کا غصہ بجھا دیتا ہے
حدیث 99–99
باب: صلہ رحمی عمر دراز کرتی ہے
حدیث 100–100
باب: نیکی کے کام برائی میں گرنے سے بچاتے ہیں
حدیث 101–102
باب: لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک آدمی اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا
حدیث 103–103
باب: صدقہ گناہ کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے
حدیث 104–105
باب: زکوۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوۃ روکنے والے کی مانند ہے
حدیث 106–107
باب: گناہ سے تو بہ کرنے والا اس عیسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا
حدیث 108–108
باب: ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہے ۔
حدیث 109–110
باب: زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے
حدیث 111–111
باب: ہر زندہ حرارت والے جگر میں اجر ہے
حدیث 112–114
باب: علماء اللہ کی مخلوق پر اس کے امین ہیں
حدیث 115–115
باب: اللہ کا ڈر دانائی کی جڑ ہے
حدیث 116–116
باب: جنت سخیوں کا گھر ہے
حدیث 117–117
باب: جنت تلواروں کے سائے تلے ہے
حدیث 118–118
باب: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے
حدیث 119–119
باب: اذان اور اقامت کے درمیان (مانگی جانے والی) دعا رد نہیں ہوتی ۔
حدیث 120–120
باب: رزق حلال کی طلب فرائض کے بعد اہم فریضہ ہے
حدیث 121–122
باب: سب سے زیادہ با برکت عورت وہ ہے جس کا خرچہ کم ہو
حدیث 123–123
باب: مومن مومن کا آئینہ ہے
حدیث 124–125
باب: مؤمن مؤمن کا بھائی ہے
حدیث 126–126
باب: مومن بار اخراجات ہلکا رکھتا ہے
حدیث 127–127
باب: مؤمن زیرک ، سمجھ دار اور چوکنا ہوتا ہے
حدیث 128–128
باب: مؤمن الفت کرنے والا (اور ) الفت کیا گیا ہوتا ہے
حدیث 129–129
باب: مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں بے خوف ہوں
حدیث 130–132
باب: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فریبی اور کمینہ ہوتا ہے
حدیث 133–133
باب: مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے
حدیث 134–135
باب: مومن کا اہل ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے
حدیث 136–136
باب: مومن قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا
حدیث 137–137
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے
حدیث 138–138
باب: مؤمن نرم مزاج اور باوقار ہوتے ہیں
حدیث 139–140
باب: موسم سرما مومن کے لیے بہار ہے
حدیث 141–142
باب: دعا مومن کا اسلحہ ہے
حدیث 143–143
باب: نمازمومن کا نور ہے
حدیث 144–144
باب: دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے
حدیث 145–145
باب: حکمت مومن کی گم شدہ چیز ہے
حدیث 146–146
باب: مؤمن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے
حدیث 147–148
باب: ومن کی طرف اللہ کا ہدیہ اس کے دروازے پر سائل ( کو بھیجنا) ہے
حدیث 149–149
باب: موت مومن کا تحفہ ہے
حدیث 150–150
باب: مومن کا شرف اس کے قیام اللیل اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے
حدیث 151–151
باب: علم مؤمن کا جگری دوست ہے ، حلم اس کا وزیر ہے ، عقل اس کی دلیل ہے ، نرمی اس کا بھائی ہے ، رفق اس کا باپ ہے ، عمل اس کا نگران ہے ، اور صبر اس کے لشکروں کا امیر ہے ۔ “
حدیث 152–153
باب: غیرت ایمان میں سے ہے
حدیث 154–154
باب: حیاء ایمان میں سے ہے
حدیث 155–156
باب: سادگی ایمان میں سے ہے
حدیث 157–157
باب: صبر نصف ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے
حدیث 158–158
باب: ايمان دو نصف حصے هے : نصف شكر اور نصف صبر ہے
حدیث 159–159
باب: ایمان اہل یمن کا ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے
حدیث 160–163
باب: ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے
حدیث 164–164
باب: نماز ایمان کا جھنڈا ہے
حدیث 165–165
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں
حدیث 166–167
باب: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے
حدیث 168–169
باب: مسلمان اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ ہیں
حدیث 170–170
باب: موت ہر مسلمان کے لیے (گناہوں کا) کفارہ ہے
حدیث 171–173
باب: علم کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے
حدیث 174–175
باب: ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون ، عزت و آبرو اور مال حرام ہے
حدیث 176–176
باب: مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت جیسی ہے
حدیث 177–178
باب: مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑدے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہیں
حدیث 179–182
باب: مجاہد وہ ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے ۔
حدیث 183–184
باب: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد (والی زندگی) کے لیے تیاری کرے اور بے وقوف وہ ہے جو خود کو خواہشات کے پیچھے لگا لے اور (پھر بھی) اللہ تعالیٰ سے امید رکھے ۔
حدیث 185–185
باب: انسان اپنے بھائی کے ساتھ قوت حاصل کر لیتا ہے
حدیث 186–186
باب: انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے
حدیث 187–188
باب: انسان اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا
حدیث 189–189
باب: انسان کی عزت اس کا دین ہے ، اس کی مروت اس کی عقل ہے ، اور اس کا حسب ونسب اس کا اخلاق ہے
حدیث 190–190
باب: انسان کا فضول کاموں کو چھوڑ دینا اس کے اسلام کے اچھا ہونے کی دلیل ہے ۔
حدیث 191–194
باب: لوگ کنگھی کے دندانوں کی طرح ( برابر) ہیں
حدیث 195–195
باب: لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح (مختلف) کا نیں ہیں
حدیث 196–196
باب: لوگ ان سو اونٹوں کی طرح ہیں جن میں سے سواری کے لائق تجھے ایک بھی نہ ملے
حدیث 197–198
باب: غنا یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس سے وہ ناامید رہنا
حدیث 199–199
باب: ایمان کے بعد عقل کی بنیا دلوگوں سے محبت کرتا ہے
حدیث 200–200
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔