حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث601 سے 800
اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ باب: آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو
حدیث نمبر: 684
684 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ الْبَزَّازُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو غَسَّانَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَذَكَرَهُترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔۔।۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں صدقہ و خیرات کے ذریعے جہنم کی آگ سے بچنے کا حکم فرمایا گیا ہے کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو۔ یعنی جو کچھ بھی میسر ہو۔ کم ہو یا زیادہ۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے جہنم کی آگ سے بچ جاؤ۔ پتا چلا کہ خلوص نیت سے کیا ہوا معمولی صدقہ بھی روز قیامت انسان کی نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔ صدقہ و خیرات کے ان گنت فضائل ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں "فضائل صدقات" طبع مکتبہ اسلامیہ لا ہور۔
ان احادیث میں صدقہ و خیرات کے ذریعے جہنم کی آگ سے بچنے کا حکم فرمایا گیا ہے کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو۔ یعنی جو کچھ بھی میسر ہو۔ کم ہو یا زیادہ۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے جہنم کی آگ سے بچ جاؤ۔ پتا چلا کہ خلوص نیت سے کیا ہوا معمولی صدقہ بھی روز قیامت انسان کی نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔ صدقہ و خیرات کے ان گنت فضائل ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں "فضائل صدقات" طبع مکتبہ اسلامیہ لا ہور۔