حدیث نمبر: 492
492 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَلَمْ يَقُلْ: «مِنْ قَبْرِهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں مسلم بن ابراہیم نے اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل بیان کیا ہے اور انہوں نے «من قبرها» (اس کی قبر سے) کے الفاظ نہیں کہے۔

وضاحت:
تشریح: -
ان جملہ احادیث میں مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے والا اللہ کے ہاں اتنے ہی اجر ثواب کا مستحق ہے جتنا وہ شخص جس نے کسی زندہ دفن کی ہوئی بچی کی جان بچائی ہو، تاہم جو عادی مجرم ہو اگر وہ سمجھانے اور وعظ ونصیحت کے بعد بھی باز نہ آئے تو ایسی صورت میں پردہ پوشی مناسب نہیں کیونکہ اس سے اس کے جرائم مزید بڑھیں گے لہٰذا خیر خواہی اسی میں ہے کہ حکام تک اس کا معاملہ پہنچایا جائے تا کہ اس کی اصلاح ہو
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 492
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث إسناده حسن،