حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث401 سے 600
مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا باب: جس نے (کسی مسلمان میں ) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے گویا زندہ درگور کی ہوئی بچی کو اس کی قبر سے نکال کر زندہ کر دیا
حدیث نمبر: 490
490 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا ابْنُ الصَّاغَانِيِّ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَلَا نَرْفَعُهُمْ؟، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا. الْحَدِيثُترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا: ہمارے کچھ ہمسائے ہیں جو شراب پیتے ہیں کیا ہم انہیں اٹھا کر (پولیس کے) حوالے کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔“