حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث1001 سے 1200
إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ باب: بے شک پہلی نبوت کی باتوں میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا (اس میں سے یہ بھی ہے ) کہ جب تجھ میں حیاء نہ رہے تو جو جی چاہے کر
حدیث نمبر: 1156
1156 - أنا رِفَاعَةُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ الْبَصْرِيُّ إِمْلَاءً مِنْ حِفْظِهِ بِالْجَامِعِ الْعَتِيقِ بِمِصْرَ، نا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ حَ ونا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ابْنُ بِنْتِ مَنِيعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ، نا شُعْبَةُ، وَشَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پہلی نبوت کی باتوں میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا (اس میں سے یہ بھی ہے) کہ جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کر۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شرم و حیا کی اہمیت تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی شریعتوں میں رہی ہے، سب نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو حیاء کی اہمیت بتائی اور اس بات سے آگاہ کیا کہ جو انسان شرم و حیا کھو بیٹھے وہ کسی چیز کا پابند نہیں رہتا، نہ وہ مخلوق خدا سے شرماتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ ٰ سے حیا کرتا ہے، گو یا شتر بے مہار جیسا بن جاتا ہے۔ پنجابی زبان میں کہتے ہیں: "لاہ چھڑی لوئی۔ تے کہیہ کرے گا کوئی۔" یعنی جب شرم وحیا کی چادر اتار دی تو کوئی شخص اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شرم و حیا کی اہمیت تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی شریعتوں میں رہی ہے، سب نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو حیاء کی اہمیت بتائی اور اس بات سے آگاہ کیا کہ جو انسان شرم و حیا کھو بیٹھے وہ کسی چیز کا پابند نہیں رہتا، نہ وہ مخلوق خدا سے شرماتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ ٰ سے حیا کرتا ہے، گو یا شتر بے مہار جیسا بن جاتا ہے۔ پنجابی زبان میں کہتے ہیں: "لاہ چھڑی لوئی۔ تے کہیہ کرے گا کوئی۔" یعنی جب شرم وحیا کی چادر اتار دی تو کوئی شخص اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔