حدیث نمبر: 1144
1144 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدٌ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا مِنْ حِلِّهِ فَذَلِكَ الَّذِي بُورِكَ لَهُ، وَكَمْ مِنْ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدہ عمرہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دنیا بڑی سرسبز اور میٹھی ہے پس جس کو اس کی حلال چیز میں سے کچھ مل گیا تو یہی وہ چیز ہے جس میں اسے برکت دی جائے گی اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اللہ عز و جل اور اس کے رسول کے مال میں (بے جا اور فضول) تصرف کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لیے آگ ہے۔“

وضاحت:
تشریح: -
جس طرح تر و تازہ پھل ذائقے میں میٹھا اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا ہوتا ہے یہی حال دنیا کے مال و اسباب کا ہے انسان کو یہ بہت مرغوب ہیں اور ان کے دل ان کی طرف کھینچتے ہیں اور دنیا کا سب سے لذیذ ترین پھل عورت ہے جو خطرناک ترین بھی ہے جو شخص احکام شریعت سے بے پروا ہو کر دنیا کا طالب اور عورت کی طرف مائل ہوگا سمجھ لو کہ اس کا دین ایمان خطرے میں ہے اور جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے استفادہ واستمتاع کرے گا وہ ان کی حشر سامانیوں اور غارت گری سے محفوظ رہے گا۔ " (ریاض الصالحین: 1، 108)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه المعجم الكبير : 854 ، جز : 24 ، الزهد لابن ابي عاصم : 154 ، شعب الايمان : 9824»