حدیث نمبر: 1066
1066 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَهْضَمٍ بِمَكَّةَ، نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، نا مَالِكٌ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، يَأْثُرُهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِكُلِّهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

ابن شہاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ اسے امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ امام زہری سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔

وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں نرمی و ملائمت کا درس دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کو تمام کاموں میں نرمی پسند ہے۔ لہٰذا بندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اپنے باہمی معاملات میں سختی کے بجائے نرمی اختیار کریں، ہاں جہاں شریعت نے سختی کا مطالبہ کیا ہے وہاں سختی ہی بہتر ہے لیکن باقی امور میں نرمی ہی محبوب ہے۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 732۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1066
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث مرسل ، اسے ابن شہاب زہری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ صحیح مسلم کی روایت مرفوع ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے ۔