حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عُمَرُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا [ ص: 95 ] وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں طلاق دے دی جبکہ وہ حائضہ تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر سے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں، پھر وہ اپنے نکاح میں روکے رکھیں یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔ پھر وہ دوبارہ حائضہ ہو اور پھر اس کا حیض بند ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو نکاح میں رکھے اور اگر چاہے تو طلاق دے، ہم بستری کرنے سے پہلے پہلے۔ یہی طہر کی وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
حدیث نمبر: 1239
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ. فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ" . قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهَنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ أَوْ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ. الشَّافِعِيُّ شَكَّ.
حافظ محمد فہد
ابوزبیر نے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ایمن مولیٰ عزہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کر رہے تھے اور ابوزبیر سن رہا تھا، انہوں نے پوچھا: ”آپ کا اس آدمی کے متعلق کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر (یعنی خود انہوں نے) نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے (ابن عمر کو) کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر اگر چاہے تو طلاق دے دے یا اسے نکاح میں روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے شروع میں طلاق دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے «في قُبل عدتهن» اور «لقبل عدتهن» میں شک کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1240
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ بھی «فطلقوهن لعدتهن» کو «في قبل عدتهن» ہی پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1241
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا: إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے کہ: «اذا طلقتم النساء فطلقوهن لقبل عدتهن»۔
حدیث نمبر: 1242
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا" ، فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا فَقَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ" .
حافظ محمد فہد
ابوزبیر نے بیان کیا کہ اس نے عبداللہ بن ایمن کو سنا کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہا ہے اور ابوزبیر سن رہا تھا: ”آپ کا اس آدمی کے متعلق کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی؟“ تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی جب عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر سے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔“ اس کو میری طرف لوٹا دیا اور کچھ حرج نہیں سمجھا، اور فرمایا: ”جب یہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر اگر تو چاہے تو طلاق دے یا نکاح میں روک لے۔“
حدیث نمبر: 1243
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا" ، فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: "إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو نبی ﷺ کے عہد میں حیض کی حالت میں طلاق دے دی، جب عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔“ آپ ﷺ نے اس عورت کو بغیر کسی حرج کے میری طرف لوٹا دیا، اور فرمایا: ”جب یہ حیض سے پاک ہو جائے تو وہ طلاق دے دے یا اپنے نکاح میں روک لے۔“
حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے عہد میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، جب عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر سے کہو وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اسے حیض ختم ہونے تک اپنے نکاح میں رکھے، پھر وہ حائضہ ہو اور جب اس کے بعد وہ حیض سے پاک ہو تو اگر چاہے تو اپنے نکاح میں روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس سے ہم بستری سے پہلے ہی طہر میں طلاق دے دے، یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1245
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّهُمْ أَرْسَلُوا إِلَى نَافِعٍ يَسْأَلُونَهُ: هَلْ حَسَبْتَ تَطْلِيقَةَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ. [ ص: 97 ] أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ إِبَاحَةِ الطَّلَاقِ وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے نافع رحمہ اللہ کے پاس ایک آدمی کو یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی ﷺ کے عہد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی دی ہوئی طلاق شمار کی گئی؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں۔“