کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: خلع لینے والی کو خلع کے بعد (شوہر کی طرف سے) طلاق واقع نہیں ہوتی
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُمَا قَالَا فِي الْمُخْتَلِعَةِ: يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا. قَالَ: لَا يَلْزَمُهَا طَلَاقٌ؛ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ.
حافظ محمد فہد
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس اور ابن الزبیر رضی اللہ عنہما نے ایسی عورت جس نے خلع لیا اور پھر اس کا خاوند اسے طلاق دے دیتا ہے، کے متعلق فرمایا: ”اس کو طلاق کی ضرورت نہیں، کیونکہ خاوند نے اس کو طلاق دی جو اس کی بیوی ہی نہیں رہی“۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُمَا قَالَا: لَا يَلْحَقُ الْمُخْتَلِعَةَ الطَّلَاقُ فِي الْعِدَّةِ؛ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: ”خلع لینے والی کو عدت میں طلاق نہ دی جائے کیونکہ اب خاوند نے اسے طلاق دی ہے جو اس کی بیوی نہیں رہی“۔