کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اس شخص کا ایمان جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا أَوْ نَوْءِ كَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ .
حافظ محمد فہد
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی ، نماز سے فاریغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ نے فرمایا) صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے اور کچھ نے میرا انکار کیا، جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش برسی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں (پر ایمان) کا منکر ہے، اور جس نے یہ کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی، تو یہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّاسَ مُطِرُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَا عَلَيْهِمْ قَالَ: "مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ إِلَّا وَقَدْ مُطِرَتْ هَذِهِ اللَّيْلَةَ" .
حافظ محمد فہد
عبد الله بن ابی بکر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ایک رات لوگوں پر بارش برسی جب نبی ﷺ نے صبح کی تو ان کے پاس آکر فرمایا: ”آج کی رات ہر جگہ پوری زمین پر بارش برسی ہے۔“
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا وَالسَّمَاءُ يُمْطَرُ فِيهَا يُصَرِّفُهُ اللَّهُ حَيْثُ يَشَاءُ" .
حافظ محمد فہد
مطلب بن حنطب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رات اور دن کی ہر گھڑی میں آسمان سے بارش برستی ہے۔ اللہ اس (بارش) کو جہاں چاہتے ہیں پھیر دیتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتَحْمِلُ الْمَاءَ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَمُرُّ فِي السَّحَابِ، حَتَّى تَدِرَّ كَمَا تَدِرُّ اللِّقْحَةُ ثُمَّ تُمْطِرُ.
حافظ محمد فہد
عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہوائیں بھیجتے ہیں تو وہ آسمان سے پانی لاتی ہیں، پھر بادلوں سے گزرتی ہیں تو اس طرح (پانی سے) بھر جاتی ہیں جیسے حاملہ اونٹنی دودھ سے بھری ہوتی ہے پھر بارش برسائی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يُوشِكُ أَنْ تُمْطَرَ الْمَدِينَةُ مَطَرًا لَا تُكِنُّ أَهْلَهَا الْبُيُوتُ وَلَا يُكِنُّهُمْ إِلَّا مَظَالُّ الشَّعَرِ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ مدینہ میں ایسی بارش ہو کہ اس کے باسیوں کے گھروں کی کوئی چھت نہ بچے گی اور انہیں صرف بالوں کے سائے چھپائیں۔“
أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يُصِيبُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مَطَرٌ لَا يُكِنُّ أَهْلَهَا بَيْتٌ مِنْ مَدَرٍ" .
حافظ محمد فہد
صفوان بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اہل مدینہ پر ایک ایسی بارش برسے گی کہ اس کے باسیوں کے کسی بھی گھر کی مٹی کی چھت نہیں بچے گی۔
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تُوشِكُ الْمَدِينَةَ أَنْ يُصِيبَهَا مَطَرٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا تُكِنُّ أَهْلَهَا بَيْتٌ مِنْ مَدَرٍ.
حافظ محمد فہد
عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں، قریب ہے کہ مدینہ میں چالیس رات تک مسلسل بارش برسے کہ اس سے مدینہ والوں کی کوئی بھی مٹی کی چھت نہ بچ سکے۔
أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ كَعْبًا قَالَ لَهُ وَهُوَ يَعْمَلُ رَبَدًا بِمَكَّةَ: اشْدُدْهُ وَأَوْثِقْ، فَإِنَّا نَجِدُ فِي الْكُتُبِ أَنَّ السُّيُولَ سَتَعْظُمُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ.
حافظ محمد فہد
صالح بن عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ کعب رضی اللہ عنہ نے اسے کہا جبکہ وہ مکہ میں پانی کا بند مٹی سے بناتے تھے۔ اس کو سخت اور مضبوط کر، ہم کتابوں میں پاتے ہیں کہ آخری زمانے میں سیلاب بڑے ہو جائیں گے۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ [ ص: 67 ] أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ مَكَّةَ مَرَّةً سَيْلٌ طَبَقَ مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، ان سے ان کے دادا نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ مکہ میں سیلاب آیا جس سے دو پہاڑوں کی درمیانی جگہ (پانی سے) بھر گئی۔
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ بِأَنْ تُمْطَرُوا، ثُمَّ تُمْطَرُوا، وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا" . أَخْرَجَ الْعَشَرَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قحط سالی یہ نہیں کہ تم پر بارش نہ برسے، بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ تم پر بکثرت بارش کا نزول ہو اور زمین (سیم والی ہونے کی وجہ سے) کچھ پیدا ہی نہ کرے۔“