حدیث نمبر: 197
اَخْبَرَنَا وَکِیْعٌ، نَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُم۔ وَهُوَ اَبُوْ عَامِرِ الْخَزَّازُ۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اُقِیْمَتِ الصَّلَاةُ، وَلَمْ اَکُنْ صَلَّیْتُ رَکَعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ، فَقُمْتُ اُصَلِّیْهِمَا، فَمَرَّبِی وَقَالَ: اَتُصَلِّی الصُّبْحَ اَرْبَعًا، قِیْلَ لِصَالِحٍ: مَنْ قَالَ؟ قَالَ: النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: نماز کے لیے اقامت ہو گئی لیکن میں نے نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں (سلام پھرنے کے بعد)، پس میں کھڑا ہوا اور انہیں پڑھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”کیا تم فجر کی نماز چار رکعتیں پڑھو گے؟“ صالح (راوی) سے کہا گیا: یہ کس نے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 197
تخریج حدیث «مسند احمد : 354/1 . قال شعيب الارناوط : اسناده حسن .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: نماز کے لیے اقامت ہوگئی لیکن میں نے نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں (سلام پھرنے کے بعد)، پس میں کھڑا ہوا اور انہیں پڑھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’کیا تم فجر کی نماز چار رکعتیں پڑھو گے؟‘‘ صالح (راوی) سے کہا گیا: یہ کس نے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:197]
فوائد:
معلوم ہوا اگر فجر کی سنتیں جماعت سے پہلے نہ پڑھ سکیں تو ان کو جماعت کے بعد ادا کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 197 سے ماخوذ ہے۔