٣٩١٦٢ - حدثنا هشيم عن خالد عن عبد اللَّه بن شقيق عن ابن عمران أن النبي ﷺ قال: " (الوتر) (١) واحدة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ وتر ایک ہے۔
٣٩١٦٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "إذا خشيت الصبح فأوتر بركعة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضررت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم صبح کے (طلوع ہونے کا) خوف کھاؤ تو ایک رکعت سے وتر بنا لو۔
٣٩١٦٤ - حدثنا هشيم أخبرنا حجاج عن عطاء أن معاوية أوتر بركعة فأنكر ذلك عليه فسئل عنه ابن عباس فقال: أصاب السنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے ایک وتر پڑھا تو آپ پر اس بات کا انکار کیا گیا۔ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : معاویہ نے سُنّت کو پالیا۔
٣٩١٦٥ - حدثنا هشيم عن حصين عن مصعب بن سعد عن أبيه أنه كان يوتر بركعة فقيل له فقال: إنما (استقصرتها بها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعدا پنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی تو انہیں (اس کے بارے میں) کہا گیا۔ انہوں نے فرمایا : میں نے اس کو مختصر کردیا ہے۔
٣٩١٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم قال: سألت عطاء: أوتر بركعة؟ قال: نعم، إن (شئت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا : میں ایک رکعت وتر پڑھ لوں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو (تو پڑھ لو)
٣٩١٦٧ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: سمر ابن مسعود وحذيفة عند الوليد بن عقبة ثم خرجا فتقاوما، فلما أصبحا ركع كل واحد منهما ركعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ کے ہاں حضرت ابن مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رات کو گفتگو کی ۔ پھر وہ دونوں وہاں سے نکلے اور دونوں نے قیام کیا۔ پس جب دونوں صبح کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک ایک رکعت پڑھی۔
٣٩١٦٨ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طاوس عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشيت الصبح فأوتر (بركعة) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ پس جب تجھے صبح کا خوف ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے۔
٣٩١٦٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث أن أبا بكر كان يوتر بركعة ويتكلم فيما بين الركعتين والركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور ایک رکعت اور دو رکعات کے درمیان گفتگو کرتے تھے۔
٣٩١٧٠ - حدثنا ابن (أبي) (١) عدي عن ابن عون عن محمد قال: الوتر ركعة من آخر الليل.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے کہ آخر رات کو ایک رکعت وتر ہے۔
٣٩١٧١ - حدثنا مرحوم عن عِسْل بن سفيان عن عطاء عن ابن عباس أنه أوتر بركعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا۔
٣٩١٧٢ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي قال: كان آل سعد وآل عبد اللَّه يسلمون في ركعتي الوتر، ويوترون بركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ آل سعد اور آل عبد اللہ وتر کی دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک رکعت کے ذریعہ اس کو وتر بناتے تھے۔
٣٩١٧٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن سعيد ونافع (قالا) (١): رأينا معاذا القارئ (يسلم) (٢) في ركعتي الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید اور نافع بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت معاذ قاری کو دیکھا کہ وہ وتر کی دو رکعات کے درمیان سلام پھیرتے تھے۔
٣٩١٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: كان الحسن يسلم في ركعتي الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حسن وتر کی دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : ایک رکعت وتر پڑھنا جائز نہیں ہے۔