٣٩١٧٥ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك ويزيد بن هارون عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أبي المليح عن أبيه قال: نهى النبي ﷺ عن جلود السباع، قال يزيد: أن (تفترش) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کی کھالوں سے منع فرمایا : راوی یزید کہتے ہیں : یعنی ان کھالوں کو بچھونا بنانے سے۔
٣٩١٧٦ - حدثنا ابن مبارك عن أشعث عن ابن سيرين أن ابن مسعود استعار دابة فأتي بها عليها صفة نمور، فنزعها ثم ركب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ ابن مسعود نے ایک سواری مستعار لی۔ پس وہ سواری اس حال میں آپ کے پاس لائی گئی کہ اس پر چیتوں کا سائبان تھا۔ آپ نے اس کو اتار دیا پھر سوار ہوئے۔
٣٩١٧٧ - حدثنا ابن علية عن علي بن الحكم قال: سألت الحكم عن جلود النمور فقال: (تكره) (١) جلود السباع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حکیم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت حکیم سے چیتوں کی کھالوں کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : درندوں کی کھالوں (کا استعمال) مکروہ ہے۔
٣٩١٧٨ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن الحكم أن عمر كتب إلى أهل الشام ⦗٣٠٨⦘ ينهاهم أن يركبوا على جلود السباع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اہل شام کو خط لکھ کر انہیں درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے منع کیا۔
٣٩١٧٩ - حدثنا ابن علية عن يزيد الرشك عن أبي المليح قال: نهى النبي ﷺ عن جلود السباع أن (تفترش) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کو بچھونا بنانے سے منع فرمایا۔
٣٩١٨٠ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن عن علي أنه كره الصلاة في جلود الثعالب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لومڑیوں کی کھالوں پر نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : ان کھالوں پر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ۔