٣٩١٥٣ - حدثنا هشيم أخبرنا خالد عن عبد اللَّه بن شقيق عن ابن عمر أن النبي ﷺ قال: "صلاة الليل مثنى مثنى، والوتر واحدة، وسجدتان قبل طلوع الفجر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رات کی نماز دو دو (رکعات) ہے اور وتر ایک ہے اور فجر سے پہلے دو رکعات (سنت) ہے۔
٣٩١٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشيت الصبح فأوتر بركعة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کی نماز دو دو (رکعات) ہے پس جب تجھے صبح (ہونے) کا خوف ہو تو ایک رکعت سے وتر بنا لے۔
٣٩١٥٥ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار (١) عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشيت الصبح فأوتر بركعة ⦗٣٠٤⦘ توتر لك ما مضى من صلاتك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کی نماز دو دو (رکعات) ہے پس جب تجھے صبح (ہونے) کا خوف ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور وہ تمہاری گزشتہ نماز کو وترر بنا دے گی۔
٣٩١٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن أبي سلمة قال: كان النبي ﷺ يسلم في كل ركعتين من صلاة الليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز میں ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے۔
٣٩١٥٧ - حدثنا يزيد عن ابن عون عن (رجاء) (١) عن قبيصة بن ذؤيب قال: مر علي أبو هريرة وأنا أصلي، فقال: افصل، فلم أدر ما قال، فلما انصرفت قلت: ما أفصل؟ قال: افصل بين صلاة الليل وصلاة النهار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے پاس سے حضرت ابوہریرہ گزرے اور فرمایا : فاصلہ کرو ! میں ان کی کہی بات نہ سمجھ سکا۔ پس جب میں فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا۔ میں کیا فاصلہ کروں ؟ انہوں نے فرمایا : رات کی نماز اور دن کی نماز میں فاصلہ کرو۔
٣٩١٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي عمرة عن (سعيد) (١) بن جبير قال: في (كل) (٢) ركعتين فصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے منقول ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہر دو رکعات میں فاصلہ ہے۔
٣٩١٥٩ - حدثنا وكيع عن عمر بن الوليد عن عكرمة قال: بين كل ركعتين تسليمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے منقول ہے کہ ہر دو رکعات کے درمیان سلام ہے۔
٣٩١٦٠ - حدثنا أبو أسامة (عن) (١) خالد بن دينار عن سالم أنه قال: صلاة الليل مثنى مثنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ رات کی نماز دو دو (رکعات) ہے۔
٣٩١٦١ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: صلاة الليل مثنى مثنى، والوتر ركعة من آخر الليل.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ رات کی نماز دو دو رکعات ہے اور رات کے آخر میں ایک رکعت وتر ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اگر تو چاہے تو دو رکعات پڑھ اور اگر تو چاہے تو چار رکعات پڑھ اور اگر تو چاہے تو چھ رکعات پڑھ اور ان میں فاصلہ بھی نہ کر۔