کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اپنا جانور چھوڑ دے اور دوسرا شخص اس کو پکڑ کر پال لے
حدیث نمبر: 35929
٣٥٩٢٩ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: ثنا هشام الدستوائي عن عبيد اللَّه بن حميد (بن) (١) عبد الرحمن الحميري عن الشعبي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ⦗٥٣٢⦘ وجد دابة (بمهلكة) (٢) فهي لمن أحياها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے جانور کو ہلاکت والی جگہ پر چھوڑ دے تو جو اس کو پکڑ کر زندہ کر دے (اس کو پال لے) وہ اسی کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35929
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الشعبي تابعي، أخرجه أبو داود (٣٥٢٤)، والدارقطني ٣/ ٦٨، وأخرجه البيهقي ٦/ ١٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35929، ترقيم محمد عوامة 34365)
حدیث نمبر: 35930
٣٥٩٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث عن الحسن في الرجل يترك الدابة في أرض القفر قال: هي لمن أحياها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنا جانور بےآب وگاہ زمین میں چھوڑ دے تو جو اس کو پال لے اور چارہ وغیرہ کھلائے وہ اس کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35930
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35930، ترقيم محمد عوامة 34366)
حدیث نمبر: 35931
٣٥٩٣١ - حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن عامر في رجل سيب دابته فأخذها رجل (١) فجاء صاحبها فخاصمه إلى عامر، فقال: هذا أمر قد قضي فيه (قبل) (٢) اليوم، إن كان سيبها في (خوف و) (٣) (مفازة) (٤) فهو أحق بدابته، وإن كان سيبها في كلأ وأمن فلا حق له فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنا جانور آزاد چھوڑ دیا تو اس کو دوسرے آدمی نے پکڑ لیا، پھر اس کا مالک آیا اور حضرت عامر کے پاس جھگڑا لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عامر نے فرمایا یہ ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق آج کے دن سے قبل فیصلہ ہوچکا ہے اگر تو اس نے خوف وغیرہ کی وجہ سے اپنا جانور چھوڑا تھا تو پھر یہ اپنے جانور کا زیاد ہ حقدار ہے، اور اگر چارے کی وجہ سے چھوڑا ہے تو پھر اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35931
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35931، ترقيم محمد عوامة 34367)