حدیث نمبر: 35872
٣٥٨٧٢ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أراد أن يخرج في سفر قال: "اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة ⦗٥١٦⦘ في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من (الضِّبْنَة) (١) في السفر، والكآبة في المنقلب، اللهم اقبض لنا الأرض، وهون علينا السفر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے۔ ” اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی ہے اور اہل و عیال کا محافظ ہے۔ اے اللہ ! میں سفر کی مشقت سے اور واپسی کے برے منظر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ ! زمین کو ہمارے لیے سکیڑ دے اور سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے۔ “
حدیث نمبر: 35873
٣٥٨٧٣ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال: (أراد) (١) رجل سفرًا فأتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ﷺ، قال: "أوصيك بتقوى اللَّه والتكبير على كل شرف" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صاحب سفر پر روانہ ہونے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ وصیت (نصیحت) فرما دیجئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ کو اللہ سے ڈرنے کی (تقویٰ اختیار کرنے کی) وصیت کرتا ہوں، اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر پڑھنے کی۔
حدیث نمبر: 35874
٣٥٨٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم عن عبد اللَّه بن سرجس قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا خرج مسافرا يتعوذ من وعثاء السفر، وكآبة المنقلب، والحور بعد الكور، ومن دعوة المظلوم، ومن سوء المنظر في الأهل والمال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو پناہ مانگتے سفر کی تھکان سے، پلٹنے والے کے حزن وملال سے، رزق کی زیادتی کے بعد اس کی کمی سے، مظلوم کی بددعا سے اور اہل ومال میں برے منظر سے۔
حدیث نمبر: 35875
٣٥٨٧٥ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن عجلان قال: حدثني عون بن عبد اللَّه أن رجلًا أتى ابن مسعود فقال: إني أريد سفرًا فأوصني، (قال) (١): إذا ⦗٥١٧⦘ توجهت فقل: بسم اللَّه، حسبي اللَّه، توكلت على اللَّه، فإنك إذا قلت: بسم اللَّه، قال: الملك هديت وإذا قلت حسبي اللَّه قال الملك: حفظت، وإذا قلت: توكلت على اللَّه، قال الملك: كفيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں سفر پر جانا چاہ رہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرما دیجئے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب نکلنے لگو تو یوں کہہ لو، بِسْمِ اللہِ ، حَسْبِی اللَّہُ ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ جب آپ نے بسم اللہ کہا تو فرشتہ کہتا ہے تجھے ہدایت دی گئی، اور جب آپ نے حَسْبِی اللَّہُ کہا تو فرشتہ نے ندا دی تیری حفاظت کی گئی اور جب آپ نے توکلت علی رضی اللہ عنہاللہ کہا تو فرشتہ نے ندا دی تیرے لیے وہ کافی ہوگیا ہے۔
حدیث نمبر: 35876
٣٥٨٧٦ - [حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يقولون في السفر: اللهم بلاغًا يبلغ خير مغفرة منك ورضوانا، بيدك الخير إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة على الأهل، اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء النظر في الأهل والمال] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سفر پر جاتے وقت یہ دعا پر ھتے، اللَّہُمَّ بَلاَغًا یُبْلَغُ خَیْرُ ، مَغْفِرَۃٍ مِنْک وَرِضْوَانًا ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ ، إِنَّک عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ ، وَالْخَلِیفَۃُ عَلَی الأَہْلِ ، اللَّہُمَّ اطْوِ لَنَا الأَرْضَ ، وَہَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ ، اللَّہُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الأَہْلِ وَالْمَالِ ۔ اے اللہ ! بہترین مغفرت اور رضامندی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ ساری خیریں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا محافظ ہے۔ اے اللہ ! زمین کو ہمارے لیے سکیڑ دے اور سفر کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ ! ہم سفر کی مشقت، برے منظر اور اہل و عیال کی بری حالت سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔