حدیث نمبر: 35862
٣٥٨٦٢ - حدثنا أبو أسامة عن (أبي عقيل) (١) قال: ثنا أبو نضرة قال: لقي رسول اللَّه ﷺ (العدو) (٢) ذات يوم فقال لأصحابه: (من جاء) (٣) منكم برأس فله على اللَّه ما تمنى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ j سے فرمایا : جو تم میں سے دشمن کا سر کاٹ کر لائے اس کو اللہ وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کرے۔
حدیث نمبر: 35863
٣٥٨٦٣ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن عدي بن ثابت عن البراء ابن عازب قال: بعث رسول اللَّه ﷺ إلى رجل تزوج امرأة أبيه فأمره أن يأتيه برأسه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف سپاہی بھیجے جس نے اپنے والد کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا تھا اور حکم دیا اس کا سرکاٹ کر لاؤ۔
حدیث نمبر: 35864
٣٥٨٦٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبيه عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة (عن أبيه) (١) قال: اشتركنا يوم بدر أنا وسعد وعمار فجاء سعد برأسين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں میں، حضرت سعد اور حضرت عمار شریک تھے، حضرت سعد دو دشمنوں کا سرکاٹ کر لائے۔
حدیث نمبر: 35865
٣٥٨٦٥ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن هنيدة بن خالد الخزاعي قال: إن أول رأس أهدي في الإسلام رأس ابن الحمق أهدي إلى معاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھنیدہ بن خالد الخزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں پہلا سر جو کاٹ کر کسی طرف بھیجا گیا وہ ابن الحمیق کا سر تھا جو حضرت معاویہ کی طرف بھیجا گیا۔
حدیث نمبر: 35866
٣٥٨٦٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن قرة بن عبد الرحمن عن يزيد بن أبي حبيب المصري قال: بعث أبو بكر أو عمر -شك الأوزاعي- عقبة بن عامر الجهني ومسلمة بن مخلد الأنصاري إلى مصر، قال: ففتح لهم، قال: فبعثوا برأس يناق البطريق، فلما رآه أنكر ذلك، فقال: إنهم يصنعون بنا مثل هذا، فقال: (استنان) (١) بفارس والروم؟ لا يحمل إلينا رأس، إنما يكفينا من ذلك الكتاب والخبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عقبہ بن عامر اور مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ ما کو مصر کی طرف جہاد کیلئے بھیجا، انہوں نے مصر فتح کرلیا اور یناق البطریق کا سر ان کو بھیج دیا، جب انہوں نے سر کو دیکھا تو ناپسند کیا، ان حضرات نے فرمایا یہ لوگ بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں، حضرت ابوبکر یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ما نے فرمایا : کٹے ہوئے سر ہماری طرف نہ بھیجے جائیں۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ جیتنے کی خبر یا خط بھیج دیا کریں۔