کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جنگ میں اپنی کنیت بیان کرنا
حدیث نمبر: 35828
٣٥٨٢٨ - حدثنا حسين بن محمد قال: ثنا جرير بن حازم عن محمد بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عبد الرحمن بن أبي عقبة عن أبي عقبة وكان مولى من أهل فارس قال: شهدت مع رسول اللَّه ﷺ يوم أحد، فضربت رجلًا من المشركين فقلت: خذها مني وأنا الغلام (الفارسي، فبلغت النبي ﷺ فقال: "هلا قلت خذها مني وأنا الغلام) (١) الأنصاري" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک کو یہ کہہ کر تلوار ماری کہ یہ لو میں فارسی غلام ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے یوں کیوں نہ کہا کہ میری طرف سے یہ وار سہو میں انصاری غلام ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35828، ترقيم محمد عوامة 34265)
حدیث نمبر: 35829
٣٥٨٢٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا هشام بن سعد قال: حدثني قيس بن (بشر) (١) (التغلبي) (٢) قال: كان أبي جليس أبي الدرداء بدمشق، وكان بدمشق رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ يقال له: ابن (الحنظلية) (٣) من الأنصار، فمر بنا ذات يوم ونحن عند أبي الدرداء، فقال أبو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا (تضرك) (٤)، ⦗٥٠٤⦘ قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية فقدمت، فأتى رجل منهم فجلس في المجلس الذي (٥) فيه رسول اللَّه ﷺ فقال لرجل إلى جنبه: لو رأيتنا حين لقينا العدو وحمل فلان فطعن فقال: خذها وأنا الغلام الغفاري، فقال: ما أراه إلا قد (أبطل) (٦) أجره، فقال: ما أرى بذلك بأسًا، قال: فتنازعوا في ذلك واختلفوا حتى سمع ذلك النبي ﷺ فقال: "سبحان اللَّه، لا بأس أن يؤجر (و) (٧) يحمد"، فرأيت أبا الدرداء سر بذلك حتى يرتفع حتى أرى أنه سيبرك على ركبتيه ويقول: أنت سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ فيقول: نعم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، دمشق میں ایک ابن الحنظلیہ نامی انصاری صحابی تھے، ایک دن جب میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو وہ ہمارے پاس سے گزرے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی بات سنائیے جو ہمیں تو فائدہ دے لیکن آپ کو نقصان نہ دے انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کیلئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو ان میں سے ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنے ساتھ والے شخص سے کہا : اگر آپ وہ منظر دیکھ لیتے جب ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی فلاں شخص نے یہ کہہ کر دشمن کو نیزہ مارا کہ یہ لو میں غفاری غلام ہوں، دوسرے شخص نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کردیا ہے، اور پہلے والے شخص نے کہا کہ میرے خیال میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ان کا اس معاملہ میں تنازعہ ہوگیا اور اختلاف ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی بات پہنچ گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ (بطور تعجب) کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کو اجر دیا جائے گا اور اس کی تعریف کی جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ اس کو سن کر بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ اوپر اٹھے اور قریب تھا کہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دریافت کیا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے خود رسول اکرم ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے خود سنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35829
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق، أخرجه أحمد ٤/ ١٧٩ (١٧٦٥٩)، وأبو داود (٤٠٨٩)، والحاكم ٢/ ١٠١، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٤٤)، وابن المبارك في الزهد (٥٨٣)، والبيهقي في الشعب (٦٢٠٤)، والطبراني (٥٦١٦)، وابن عساكر ١٠/ ٢٥٠، والمزي ٤/ ١٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35829، ترقيم محمد عوامة 34266)
حدیث نمبر: 35830
٣٥٨٣٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن مالك بن الحارث أو غيره قال: كنتَ لا تشاء أن تسمع يوم القادسية [أنا الغلام النخعي، إلا سمعته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم قادسیہ کے دن سننا نہیں چاہتے تھے کہ میں نخعی غلام (جوان ) ہوں مگر تم نے یہ سن لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35830، ترقيم محمد عوامة 34267)
حدیث نمبر: 35831
٣٥٨٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: كان عمرو بن معدي كرب يمر علينا يوم القادسية] (١) ونحن صفوف (فيقول) (٢): يا معشر العرب، كونوا أسدا (أشداء) (٣) أغنى شأنه، فإنما ⦗٥٠٥⦘ الفارسي تيس بعد أن يلقي نيزكه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابو حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے دن ہم لوگ صفوں میں تھے ہمارے پاس سے حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ گزرے اور فرمایا : اے عرب کے جوانو ! سخت جان شیر بن جاؤ، بیشک شیر تو وہ ہوتا ہے جو غنی کر دے، اور فارسی لوگ بکری کی طرح ہیں بعد اس کے کہ ان کو چھوٹا نیزہ مارا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35831
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35831، ترقيم محمد عوامة 34268)
حدیث نمبر: 35832
٣٥٨٣٢ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن البراء أن النبي ﷺ قال: يوم حنين: "أنا النبي لا كذب … أنا بن عبد المطلب" (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے دن فرمایا : میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35832
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، صرح أبو إسحاق بالتحديث عند الشيخين، أخرجه البخاري (٢٩٣٥)، ومسلم (١٧٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35832، ترقيم محمد عوامة 34269)