حدیث نمبر: 35795
٣٥٧٩٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك قال: سمعت عياضا الأشعري قال: شهدت اليرموك قال: فقال أبو عبيدة بن الجراح: من يراهنني؟ قال: فقال شاب: أنا إن لم تغضب، قال: (فسبقه) (١)، قال: فرأيت عقيصتي أبي عبيدة تنقزان وهو خلفه على فرس (عربي) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض ، اشعری رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ میں جنگ یرموک میں حاضر تھا، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون مجھ سے گھوڑے کی ریس لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا کہ میں لگانے کو تیار ہوں اگر آپ غصہ نہ کریں تو، راوی فرماتے ہیں کہ پس وہ ان سے آگے نکل گیا، میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی زلفوں کو دیکھ رہا تھا کہ وہ بکھری ہوئی تھیں اور وہ ان کو ہٹا رہے تھے اور وہ اس نوجوان کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔
حدیث نمبر: 35796
٣٥٧٩٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: كانوا يتراهنون على عهد رسول اللَّه ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ ریس لگایا کرتے تھے۔ حضرت زھری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر انعام عطا فرمایا۔
حدیث نمبر: 35797
٣٥٧٩٧ - قال الزهري: وأول من أعطى فيه عمر بن الخطاب (١).
حدیث نمبر: 35798
٣٥٧٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان لعلقمة برذون يراهن عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ کے پاس ایک غیر عربی گھوڑا تھا جس پر وہ ریس لگایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 35799
٣٥٧٩٩ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم أن علقمة سابق رجلا فسبقه (فامتلخ) (١) لجامه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک آدمی سے ریس لگائی تو وہ شخص ان سے آ گے نکل گیا تو انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر اس کو گھوڑے سے نیچے گرا دیا۔
حدیث نمبر: 35800
٣٥٨٠٠ - حدثنا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس برهان الخيل إذا كان (فيها) (١) فرس محلل، إن سبق كان له السبق وإن لم يسبق لم يكن عليه شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو گھوڑوں سے ریس لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر ان میں ایک تیسرا گھوڑا بھی شامل کردیا جائے اگر وہ سبقت لے جائے تو اس کیلئے جیتنے کا انعام ہوگا اور اگر وہ سبقت نہ لے کر گیا تو اس پر کچھ نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 35801
٣٥٨٠١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أدخل فرسًا بين فرسين وقد أمن أن يُسبق فهو قمار، ومن أدخل فرسًا بين فرسين وهو لا يأمن أن يسبق فليس بقمار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا داخل کرے اور اس کو یقین ہے کہ وہ جیتے گا تو یہ جوا ہے، اور جو دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا داخل کرے اور اس کو جیتنے کا یقین نہ ہو تو پھر یہ جوا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35802
٣٥٨٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن سماك عن عبد اللَّه بن حصين العجلي أن حذيفة سبق الناس على فرس له أشهب، قال: فدخلت عليه وهو ⦗٤٩٧⦘ جالس على قدميه، ما (تمس إليتاه) (١) الأرض فرحًا به، يقطر عرقًا، وفرسه على معلفه، وهو جالس ينظر إليه والناس يدخلون عليه يهنئونه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اشھب نامی گھوڑا تھا جس پر سوار ہو کر وہ لوگوں سے گھوڑ دوڑ میں سبقت لے گئے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس حاضر ہوا تو وہ اپنے قدموں پر بیٹھے تھے ان کی پشت زمین پر نہیں لگ رہی تھی خوشی کی وجہ سے پسینے میں شرابور تھے اور پسینہ ٹپک رہا تھا اور ان کا گھوڑا چراگاہ میں بندھا ہوا تھا اور وہ اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور لوگ ان کے پاس آ کر ان کو مبارک باد دے رہے تھے۔
حدیث نمبر: 35803
٣٥٨٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن سماك عن أبي (سلامة) (١) أن حذيفة سبق الناس على برذون له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ غیر عربی گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں سے گھڑ دوڑ میں سبقت لے جاتے۔
حدیث نمبر: 35804
٣٥٨٠٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن جابر عن عامر أن عمر بن الخطاب أجرى الخيل وسبق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو دوڑایا اور ریس میں سبقت لے گئے۔
حدیث نمبر: 35805
٣٥٨٠٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن برد عن الزهري قال: كانوا يسبقون على الخيل والركاب وعلى أقدامهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام j گھوڑ سواری اور پیدل چلنے میں مسابقہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 35806
٣٥٨٠٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: ضمر رسول اللَّه صلى اللَّه (عليه وسلم) (١) الخيل، فكان (يرسل) (٢) (التي) (٣) (أضمرت) (٤) من (الحفياء) (٥) إلى ثنية الوداع، والتي لم تضمر من ثنية ⦗٤٩٨⦘ الوداع إلى مسجد بني زريق (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑے کو مسابقہ کیلئے بھوکا رکھا، پھر جن گھوڑوں کو بھوکا رکھا تھا ان کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مسابقہ کروایا اور جن گھوڑوں کو بھوکا نہیں رکھا ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق تک مسابقہ کروایا۔
حدیث نمبر: 35807
٣٥٨٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سعيد بن (زيد) (١) عن (٢) الزبير ابن خريت عن أبي لبيد قال: أرسلت الخيل والحكم بن أيوب على البصرة قال: فخرجنا ننظر إليها، فقلنا: لو ملنا إلى أنس بن مالك، فملنا إليه وهو في قصره بالزاوية، فقلنا له: يا أبا حمزة أكانوا يتراهنون على عهد رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم، واللَّه لراهن -يعني رسول اللَّه ﷺ على فرس يقال له سبحة، فجاءت سابقة، فهش لذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس گھوڑا بھیجا گیا درآنحالیکہ حضرت حکم بن ایوب بصرہ پر حاکم تھے، ہم باہر نکلے تاکہ اس کو دیکھ سکیں، ہم نے کہا کہ اگر ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کے پاس جاتے تو اچھا ہوتا پھر آپ کی طر ف گئے وہ محل کے کونے میں تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو حمزہ رضی اللہ عنہ ! کیا صحابہ کرام j عہد نبوی ﷺ میں گھوڑوں کی دوڑ میں مسابقہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم نبی اکرم ﷺ اپنے گھوڑے پر ریس لگایا کرتے تھے جس کا نام سبحہ تھا پس ایک مرتبہ وہ سبقت لے گیا پھر اس کیلئے پتے توڑے گئے۔
حدیث نمبر: 35808
٣٥٨٠٨ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن بكر قال: رأى رجلان ظبيا وهما محرمان فتواخيا فيه وتراهنا، فرماه بعصى فكسره، فأتيا عمر وإلى جنبه ابن عوف فقال لعبد الرحمن: ما تقول؟ قال: هذا قمار ولو كان سبقًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو شخصوں نے ہرن دیکھا اس حال میں کہ وہ دونوں محرم تھے، ان دونوں نے اس میں مقابلہ کیا دونوں نے عصا کے ساتھ مارا اور اس کو توڑ دیا، پھر وہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ جوا ہے اگر چہ یہ مسابقہ تھا۔
حدیث نمبر: 35809
٣٥٨٠٩ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ أجرى الخيل وجعل بينها (سبقا) (١): أواقي من ورق، وأجرى الإبل ولم يذكر السبق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رضی اللہ عنہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے گھوڑ دوڑ میں مسابقہ جاری فرمایا اور اس میں چند اوقیہ چاندی کا انعام مقرر فرمایا، اور اونٹ کی ریس جاری فرمائی اور اس میں انعام مقرر نہ فرمایا۔