حدیث نمبر: 35712
٣٥٧١٢ - حدثنا حفص عن عاصم عن أبي عثمان أن عمر جعل على أهل السواد ضيافة ثلاثة أيام لابن السبيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق والوں پر لازم کیا کہ مسافر کی تین دن مہمان نوازی کریں۔
حدیث نمبر: 35713
٣٥٧١٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن قيس بن مسلم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عمر بن الخطاب اشترط على أهل السواد ضيافة يوم وليلة، فكان أحدهم يقول (شباه، شباه) (١) -يعني ليلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق والوں پر ایک دن اور رات کی مہمان نوازی کی شرط لگائی ان میں سے ایک کہتا تھا، رات، رات۔
حدیث نمبر: 35714
٣٥٧١٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام الدستوائي عن قتادة (عن الحسن) (١) عن الأحنف بن قيس أن عمر اشترط ضيافة يوم وليلة، وأن يصلحوا القناطر، وإن قتل رجل من المسلمين بأرضهم فعليهم ديته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن اور ایک رات کی مہمان نوازی کی شرط لگائی، اگر چہ وہ عمارتوں پر صلح کریں، اور اگر ان کی زمین پر مسلمانوں میں سے کسی کو قتل کیا گیا تو ان پر دیت ہے۔
حدیث نمبر: 35715
٣٥٧١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب العبدي عن عمر أنه اشترط على أهل الذمة ضيافة يوم وليلة، فإن حبسهم مطر أو ⦗٤٧٦⦘ مرض فيومين، فإن أقاموا أكثر من ذلك أنفقوا من أموالهم، ولم يكلفوا إلا ما يطيقونه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذمیوں پر ایک دن اور رات کی مہمان نوازی کی شرط لگائی، اور اگر ان کو بارش روک دے یا مرض لاحق ہوجائے تو پھر دو دن اور اگر اس سے زیادہ قیام کریں تو ان کے اپنے اموال میں سے ان پر خرچ کیا جائے، اور ان کو مکلف نہیں بنائیں گے مگر جس کی وہ طاقت رکھیں۔
حدیث نمبر: 35716
٣٥٧١٦ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الضيافة ثلاثة أيام فما بعدها فهو صدقة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہمان نوازی تین دن ہے پھر اس کے بعد صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 35717
٣٥٧١٧ - حدثنا ابن عيينة عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي شريح الخزاعي عن النبي ﷺ قال: "من كان يؤمن باللَّه واليوم الآخر فليكرم ضيفه، جائزته يومًا وليلة، ولا يحل لضيف أن (يثوي) (١) عند صاحبه حتى يحرجه الضيافة ثلاث، وما أنفق عليه بعد ثلاث فهو صدقة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شریح الخزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے ایک دن اور ایک رات اپنے مہمان کا اکرام کرے، اور مہمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے پاس اتنا قیام کرے کہ اس کو حرج میں ڈال دے، مہمان نوازی تین دن ہے تین دن کے بعد جو خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 35718
٣٥٧١٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن سعيد بن وهب عن رجل من الأنصار أن مما أخذ عمر على أهل الذمة ضيافة يوم وليلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن وھب ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ذمیوں سے ایک دن اور رات کی مہمان نوازی وصول فرماتے ۔
حدیث نمبر: 35719
٣٥٧١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: حدثني ابن سراقة أن أبا عبيدة بن الجراح كتب لأهل (دير طيايا) (١): عليكم إنزال الضيف ثلاثة أيام، ⦗٤٧٧⦘ (وأن) (٢) ذمتنا (بريئة) (٣) من معرة الجيش (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے دیر والوں کو تحریر فرمایا : تم پر تین دن تک مہمان کا اکرام لازم ہے اور بیشک ہمارا ذمہ لشکر کے ظلم سے بری ہے، لشکر کے ظلم سے مراد ذمیوں کی فصلوں کو بلااجازت استعمال کرنا۔
حدیث نمبر: 35720
٣٥٧٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: الضيافة ثلاثة أيام وما وراء ذلك فهو صدقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مہمان نوازی تین دن ہے اس کے بعد وہ صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 35721
٣٥٧٢١ - حدثنا جرير عن الأعمش عن نافع قال: نزل ابن عمر بقوم فلما مضى ثلاثة أيام قال: يا نافع، أنفق علينا، فإنه لا حاجة لنا أن يتصدق علينا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک قوم نے مہمان نوازی کی جب تین دن گزر گئے تو فرمایا اے نافع ! ہم پر خرچ کر، ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم پر صدقہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 35722
٣٥٧٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن عبد الواحد بن أيمن قال: كان الحسن بن محمد بن علي ينزل علينا، فإذا أنفقنا عليه ثلاثة أيام أبى أن يأخذ منا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالواحد بن ایمن فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لاتے، جب ہم تین دن تک ان کی خوب مہمان نوازی کرتے تو اس کے بعد ہم سے کچھ قبول کرنے سے انکار کرتے۔
حدیث نمبر: 35723
٣٥٧٢٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مسلم عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: للمسافر ثلاثة أيام على من مر به، فما جاز فهو صدقة، وكل معروف صدقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر کیلئے تین کی اجازت ہے جس پر وہ گزرے، جب تین دن سے تجاوز کرے تو وہ صدقہ ہے، اور ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 35724
٣٥٧٢٤ - حدثنا غندر عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: حق الضيف ثلاثة أيام فما جاز ذلك فهو صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہمان کا حق تین دن ہے، جو اس سے تجاوز کرے وہ صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 35725
٣٥٧٢٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن أبي عمران الجوني قال: سمعت ⦗٤٧٨⦘ جندبا البجلي يقول: كنا نصيب من (طعامهم) (١) من غير أن نشاركهم في بيوتهم، ونأخذ العلج فيدلنا من القرية إلى القرية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے کھانے میں ہمارا حصہ ہے ان کے گھروں میں شریک ہوئے بغیر ہم عجمی کافر کو پکڑیں گے پھر وہ ہمیں پھرائے گا ایک بستی سے دوسری بستی کی طرف۔
حدیث نمبر: 35726
٣٥٧٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) الأسدي عن أبي ظبيان قال: كنا مع سلمان الفارسي في غزاة إما في جلولاء وإما في نهاوند، قال: فمر رجل وقد جنى فاكهة، قال: فجعل يقسمها بين أصحابه، فمر سلمان فسبه، فرد على سلمان وهو لا يعرفه، قال: فقيل له: هذا سلمان، فرجع إلى سلمان يعتذر إليه، فقال له الرجل: ما يحل لأهل الذمة يا أبا عبد اللَّه؟ فقال: ثلاث: من عماك إلى هداك، ومن فقرك إلى غناك، وإذا صحبت الصاحب منهم تأكل من طعامه ويأكل من طعامك، وتركب دابته ولا تصرفه عن وجه يريده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا تو جنگ جلولاء تھی یا پھر جنگ نھاوند۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے پھل توڑے ہوئے تھے، اس نے ساتھیوں کے درمیان ان کو تقسیم کرنا شروع کردیا، حضرت سلمان وہاں سے گزرے تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا، اس نے بھی حضرت سلمان کو برا کہا نہ پہچاننے کی وجہ سے، اس کو بتایا گیا کہ یہ حضرت سلمان ہیں تو وہ حضرت سلمان کے پاس معذرت کے لیے گیا، پھر ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ ! اے ابو عبد اللہ ! ذمیوں کیلئے کیا چیز حلال ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا تین چیزیں۔ تمہاری گمراہی سے ہدایت یافتہ ہونے تک تمہارے فقر سے مالداری تک، جب ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ہو تو تم اس کے کھانے میں سے استعمال کرلو اور وہ تمہارے کھانے میں سے، اور تم اس کی سواری پر سوار ہوجاؤ، (اور وہ تمہاری سواری پر) اور وہ چاہتا ہو تو اس سے چہرہ کو مت پھیرو۔