کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ذوی القربی کا حصہ کس کیلئے ہے؟
حدیث نمبر: 35692
٣٥٦٩٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن جبير بن مطعم قال: قسم رسول اللَّه ﷺ سهم ذوي القربى على بني هاشم وبني المطلب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربیٰ کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35692
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالسماع، وابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد ٤/ ٨١ (١٦٧٨٧)، وأبو داود (٢٩٨٠)، والنسائي (٤٤٣٩)، وابن جرير في التفسير ١٠/ ٦، والشافعي في الأم ٤/ ١٤٦، والبزار (٣٤٠٣)، وأبو يعلى (٧٣٩٩)، والبيهقي ٦/ ٣٤١، والطبراني (١٥٩١)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٦٥، وابن شبه (١٠٥٤)، والطحاوي ٣/ ٢٣٥، والمروزي في السنة (١٥٨)، وأصله عند البخاري (٤٢٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35692، ترقيم محمد عوامة 34133)
حدیث نمبر: 35693
٣٥٦٩٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا هاشم بن (بريد) (١) قال: حدثني حسين بن ميمون عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليًا يقول: قلت: يا رسول اللَّه إن رأيت أن (توليني) (٢) حقنا من الخمس في كتاب اللَّه، فاقسمه حياتك كي لا ينازعنيه أحد بعدك، قال: (نفعل) (٣) ذلك، قال: فولانيه رسول اللَّه ﷺ فقسمته حياة رسول اللَّه ﷺ، ثم ولانيه أبو بكر، فقسمته حياة أبي بكر، ثم ولانيه عمر، فقسمته حياة عمر، حتى كانت آخر سنة من (٤) سني عمر، فأتاه مال كثير فعزل حقنا، ثم أرسل إلي فقال: هذا حقكم فخذه فاقسمه حيث كنتَ تقسمه، فقلت: يا أمير المؤمنين، بنا عنه العام غنى وبالمسلمين إليه حاجة، فرده (عليه) (٥) تلك السنة، ثم لم يدعنا إليه أحد بعد عمر، حتى قمت مقامي هذا، فلقيت العباس بعد ما خرجت من عند عمر فقال: يا علي، لقد حرمتنا الغداة شيئا لا يُردّ علينا أبدا إلى يوم القيامة، وكان رجلًا (داهيا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اللہ کے خمس میں سے جو ہمارا حصہ ہے اس کا مجھے ولی بنادیں تاکہ میں آپ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کر دوں، تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا ولی بنادیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اس کو تقسیم کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا آخری سال آگیا، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا انہوں نے ہمارا حق الگ کر کے میری طرف ارسال کردیا اور فرمایا یہ تمہارا حق ہے یہ لے لو اور جہاں تقسیم کرنا چاہو تقسیم کرلو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ہم اس سے مستغنی ہیں جب کہ مسلمانوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے، پس اس سال ان کو وہ واپس کردیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی نے ہمیں اس کی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ میں اس مقام پر کھڑا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلنے کے بعد میری حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ آپ نے صبح ہمیں ایک چیز سے (حق سے) محروم کردیا اب قیامت تک ہمیں نہیں دیا جائے گا۔ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ عمدہ رائے والے شخص تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35693
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35693، ترقيم محمد عوامة 34134)
حدیث نمبر: 35694
٣٥٦٩٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد ابن علي عن يزيد بن هرمز: أن نجدة كتب إلى ابن عباس يسأله عن سهم ⦗٤٧٠⦘ ذوي القربى لمن هو؟ فكتب: كتبت تسألني عن سهم ذوي القربى لمن هو؟ فهو لنا، قال: إن عمر ابن الخطاب دعانا إلى أن تنكح منه (أيمنا) (١)، (ونخدم) (٢) منه عائلنًا، ونقضي منه عن غارمنا، فأبينا ذلك إلا أن يسلمه لنا جميعا فأبى أن يفعل فتركناه عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تحریر فرمایا آپ نے مجھے لکھ کر دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے ؟ وہ حصہ ہمارے لیے ہے، پھر فرمایا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس بات کی دعوت دی کہ ہم اس کے ساتھ اپنی بےنکاحی عورتوں کا نکاح کریں اور اس سے ہمارے خاندان کی خدمت کی جائے اور ہمارے قرض خواہوں کو ادائیگی کی جائے ہم نے اس سے انکار کردیا مگر یہ کہ وہ سب کا سب ہمیں ہی دیا جائے انہوں نے اس طرح کرنے سے انکار کردیا پس ہم نے ان کیلئے اس کو چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35694
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بالسماع عند ابن شبه (١٠٦٠)، وأخرجه النسائي (٤٤٣٦)، وأبو يعلى (٢٥٥٠)، والطحاوي ٣/ ٢٣٥، وأبو عوانة (٦٨٩٧)، وابن شبه (١٠٥٩)، وأصل الحديث عند مسلم (١٨١٢)، وأبي داود (٢٩٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35694، ترقيم محمد عوامة 34135)
حدیث نمبر: 35695
٣٥٦٩٥ - حدثنا وكيع (قال: ثنا) (١) سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد ابن الحنفية قال: اختلف الناس بعد وفاة النبي ﷺ في هذين السهمين سهم لرسول اللَّه ﷺ وسهم لذوي القربى، فقالت طائفة: سهم رسول اللَّه ﷺ للخليفة من بعده، وقالت طائفة: سهم (ذوي) (٢) القربى لقرابة الخليفة، فأجمعوا على أن يجعلوا هذين السهمين في الكراع وفي العدة في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد ابن الحنفیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دو حصوں سے متعلق لوگوں میں اختلاف ہوگیا، ایک اللہ کے رسول ﷺ کا حصہ اور ایک ذوی القربیٰ کے حصہ کے بارے میں ایک جماعت نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ کا حصہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ کیلئے ہے اور دوسری جماعت نے کہا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کیلئے ہے، پھر سب حضرات نے اس پر اتفاق کرلیا کہ وہ ان دونوں حصوں کو گھوڑوں میں اور جہاد کی تیاری کیلئے خرچ کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35695
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35695، ترقيم محمد عوامة 34136)
حدیث نمبر: 35696
٣٥٦٩٦ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن عطاء بن السائب أن عمر بن عبد العزيز لما قام بعث بهذين السهمين سهم رسول اللَّه ﷺ، وسهم ذوي القربى -يعني لبني هاشم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ بنے تو ان دونوں حصوں کو ( اللہ کے رسول کا حصہ اور ذوی القربیٰ کا حصہ) بنو ہاشم کیلئے بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35696
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35696، ترقيم محمد عوامة 34137)
حدیث نمبر: 35697
٣٥٦٩٧ - حدثنا وكيع عن (الحسن) (١) عن السدي، ﴿وَلِذِي الْقُرْبَى﴾، قال: هم بنو عبد المطلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت السدی فرماتے ہیں کہ ارشاد خدا وندی { وَلِذِی الْقُرْبَی } سے مراد بنو عبدالمطلب ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35697
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35697، ترقيم محمد عوامة 34138)
حدیث نمبر: 35698
٣٥٦٩٨ - حدثنا وكيع عن أبي معشر عن سعيد المقبري قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يسأله عن سهم ذوي القربى فكتب إليه ابن عباس: إنا (كنا) (١) نزعم أنا (نحن) (٢) هم، فأبى ذلك علينا قومنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید المقبری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھ کر ذوی القربیٰ کے حصہ کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب تحریر فرمایا : ہم لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ہی وہ ہیں لیکن ہماری قوم نے ہم پر انکار کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35698
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي معشر، أخرجه ابن جرير في التفسير ١٠/ ٦، وابن شبه (١٠٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35698، ترقيم محمد عوامة 34139)
حدیث نمبر: 35699
٣٥٦٩٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الحسن في هذه الآية: ﴿فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [الحشر: ٧]، قال: لم يعط أهلَ البيت بعد رسول اللَّه ﷺ الخمس: (أبو بكر) (١) ولا عمر ولا غيرهما، فكانوا يرون أن ذلك إلى الإمام (يضعه) (٢) في سبيل اللَّه وفي الفقراء حيث (أراه) (٣) اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بیت کو حصہ نہیں دیا ان حضرات کا خیال تھا کہ یہ حصہ امام کے لیے ہے جس کو وہ اللہ کے راستہ میں خرچ کرے گا، اور فقراء میں خرچ کرے گا جہاں اللہ ان کی رہنمائی کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35699
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35699، ترقيم محمد عوامة 34140)