کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی شرط پر مسلمان ہو اس کو وہ (مطلوبہ چیز) ملے گی
حدیث نمبر: 35674
٣٥٦٧٤ - حدثنا صفوان بن عيسى عن الحارث بن أبي (ذباب) (١) عن منير بن عبد اللَّه عن أبيه عن سعد بن أبي ذباب قال: قدمت على رسول اللَّه ﷺ فأسلمت وقلت: يا رسول اللَّه اجعل لقومي ما أسلموا عليه، قال: ففعل رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمان ہوگیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میری قوم کیلئے کچھ مقرر فرما دیں جس پر وہ اسلام لانے کے لیے تیار ہوجائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے مقرر کردیا۔
حدیث نمبر: 35675
٣٥٦٧٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا أبان بن عبد اللَّه البجلي قال: ثنا عثمان بن أبي حازم عن صخر بن (العيلة) (١) قال: أخذت عمة المغيرة فقدمت بها إلى رسول اللَّه ﷺ، وجاء المغيرة بن شعبة فسأل رسول اللَّه ﷺ (عمته) (٢) وأخبر أنها عندي، فدعاني رسول اللَّه ﷺ فقال: "يا صخر، إن القوم إذا أسلموا أحرزوا أموالهم"، قال: فدفعناها إليه ﷺ وقد كان رسول اللَّه ﷺ أعطاني (ماء لبني) (٣) سليم فأسلموا فأتوا نبي اللَّه ﷺ فسألوه الماء، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا صخر، إن القوم إذا ⦗٤٦٥⦘ أسلموا أحرزوا أموالهم ودماءهم فادفعه إليهم"، فدفعته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صخر بن عیلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ کے چچا کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اتنے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اپنے چچا کا پوچھا، ان کو خبر دی کہ وہ میرے پاس ہے، مجھے رسول اکرم ﷺ نے بلایا اور فرمایا : اے صخر ! جب قوم مسلمان ہوجائے، تو وہ اپنے اموال کو محفوظ کرلیتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو دے دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو سلیم کیلئے پانی عطا فرمایا، پس وہ مسلمان ہوگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کا سوال کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صخر ! جب قوم مسلمان ہوجائے تو وہ اپنی جان اور مال کو بچا لیتے ہیں، پس اس کو واپس کر دے، پس پھر میں نے اس کو واپس کردیا۔
حدیث نمبر: 35676
٣٥٦٧٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح قال: سألت عبيد اللَّه ابن عمر عمن أسلم من أهل السواد فقال: من أسلم من أهل السواد ممن له ذمة فله أرضه وماله، ومن أسلم ممن لا ذمة له، وإنما أخذ عنوة فأرضه للمسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جنگل، دیہات والوں کے اسلام کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : اھل السواد میں سے جو مسلمان ہوا اگر وہ ذمی تھا (جس کا عہد تھا) زمین اور مال اسی کا ہے اور جو اسلام لایا جس کا کوئی ذمہ نہ تھا، (عہد و معاہدہ نہ تھا) اور وہ بزور بازو فتح ہوا تو اس کی زمین مسلمانوں کیلئے ہے، حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مکتوب میں لکھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 35677
٣٥٦٧٧ - قال عبيد اللَّه: هذا في كتاب عمر بن عبد العزيز.
حدیث نمبر: 35678
٣٥٦٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: أيما مدينة فتحت عنوة فأسلم أهلها فهم أحرار، وأموالهم للمسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بھی شہر بزور بازو فتح ہوا۔ پھر اس کے باشندے اسلام نے آئے تو وہ لوگ آزاد ہوں گے اور ان کا مال مسلمانوں کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 35679
٣٥٦٧٩ - حدثنا يزيد بن المقدام بن شريح عن أبيه عن جده هانئ بن (شريح) (١) ذكر أنه وفد إلى رسول اللَّه ﷺ في قومه، (وأنه) (٢) لا حضر خروج القوم إلى بلادهم أعطى كل رجل منهم أرضا في بلاده حيث أحب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہانیٔ بن یزید ذکر کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وفد نے اپنے علاقہ کی طرف روانگی کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو اس کے علاقہ میں اس کی پسندیدہ زمین بطور جاگیر کے عطا فرمائی۔
حدیث نمبر: 35680
٣٥٦٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن أبي ذئب عن الزهري قال: من أسلم أحرز له إسلامه نفسه وماله إلا الأرض؛ لأنه أسلم وهو في غير منعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جو شخص مسلمان ہوگا وہ اپنے نفس اور مال کو محفوط کرے گا سوائے زمین کے، سوائے اس کے اس لیے کہ وہ بغیر کارروائی اور لڑائی کے مسلمان ہوا۔
حدیث نمبر: 35681
٣٥٦٨١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن غالب العبدي قال: حدثني رجل من بني نمير عن أبيه عن جده أو جد أبيه أنه أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن ⦗٤٦٦⦘ قومي أسلموا على أن جعلت لهم كذا وكذا، قال: "إن شئت رجعت فيه وتركه أفضل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب العبدی بنو نمیر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میری قوم اس بات پر ایمان لائی ہے کہ میں ان کو یہ یہ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر آپ چاہو تو رجوع کرلو اس میں اور اس کا چھوڑنا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 35682
٣٥٦٨٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد اللَّه بن (دينار) (١) (البهراني) (٢) أن عمر ابن عبد العزيز قال: أما من أسلم من أهل الأرض فله ما أسلم عليه من أهل أو مال، وأما أرضه فهي كائنة فيما أفاء اللَّه على المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : زمین والوں میں سے جو مسلمان ہو تو اس کا مال اور اھل و عیال اس کیلئے ہوگا، اور جو اس کی زمین ہے وہ اللہ کی طرف سے غنیمت ہے مسلمانوں کیلئے۔
حدیث نمبر: 35683
٣٥٦٨٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء والزهري قالا: من السنة أن يكون للرجل ما أسلم عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا اور حضرت زھری d فرماتے ہیں کہ یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی جس پر مسلمان ہو وہ اس کو ملے۔