حدیث نمبر: 35609
٣٥٦٠٩ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش قال: كان أصحاب عبد اللَّه يغزون زمان الحجاج، عبد الرحمن بن يزيد وأبو سنان وأبو جحيفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ کے اصحاب نے حجاج بن یوسف کے دور میں اس کے ساتھ ملکر جہاد کیا جن میں عبدالرحمن بن یزید، ابو سنان اور ابو ححیفہ کا نام قابل ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 35610
٣٥٦١٠ - حدثنا عبدة عن الأعمش قال: سمعتهم يذكرون أن عبد الرحمن بن يزيد كان يغزو الخوارج في زمان الحجاج يقاتلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ نے حجاج کے دور میں خوارج کے ساتھ قتال کیا۔
حدیث نمبر: 35611
٣٥٦١١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الأعمش عن إبراهيم (أنه) (١) غزا (الري) (٢) في زمان الحجاج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابراہیم نے حجاج کے زمانے میں جہاد کیا۔
حدیث نمبر: 35612
٣٥٦١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا مثنى بن سعيد عن أبي (جمرة) (١) قال: سألت ابن عباس عن الغزو مع الأمراء وقد أحدثوا، فقال: تقاتل على نصيبك من الآخرة، ويقاتلون على نصيبهم من الدنيا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا ان امراء کے ساتھ مل کر لڑنا کیسا ہے جنہوں نے دین میں نئے کام ایجاد کیے اور ظلم کیا ؟ فرمایا آپ اپنے آخرت کے حصہ (ثواب) کیلئے لڑو، وہ اپنے دنیا کے حصہ کیلئے لڑتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35613
٣٥٦١٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا حماد بن زيد عن الجعد أبي عثمان عن سليمان اليشكري عن جابر قال: قلت له: أغزو أهل الضلالة مع السلطان؟ قال: (اغُز) (١)، فإنما عليك ما حُملت وعليهم ما حُملوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان الیشکری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ظالم اور گمراہ کے ساتھ مل کر لڑنا کیسا ہے ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تجھے اس کا ثواب ملے گا جو تیری نیت ہوگی اور ان کو وہی ملے گا جو ان کی نیت ہوگی۔
حدیث نمبر: 35614
٣٥٦١٤ - حدثنا غندر عن الفزاري عن هشام عن الحسن وابن سيرين سئلا عن الغزو مع أئمة السوء فقالا: لك شرفه وأجره وفضله، وعليهم إثمهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ظالم حکمرانوں کے ساتھ مل کر لڑنا کیسا ہے ؟ آپ دونوں نے فرمایا : آپ کیلئے اس جہاد کا اجر اور شرف ہے اور ان پر ان کا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 35615
٣٥٦١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف عن محمد ابن عبد الرحمن بن يزيد النخعي قال: قلت لأبي: يا أبة في إمارة الحجاج أتغزو؟ قال: يا بني لقد (أدركت) (١) أقوامًا أشد بغضا منكم للحجاج وكانوا لا يدعون الجهاد على حال، ولو كان رأي الناس في الجهاد مثل رأيك ما (أدي) (٢) (الأتاوة) (٣) -يعني الخراج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن یزید النخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ اے ابا ! حجاج کے دور امارت میں آپ جہاد میں شریک ہوئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا اے بیٹے ! میں نے تو ان لوگوں کو بھی پایا ہے جو حجاج کے معاملہ میں تم سے زیادہ سخت تھے، لیکن انہوں نے پھر بھی جہاد کو نہ چھوڑا۔ اور اگر لوگوں کی بھی وہی رائے بن جاتی جو آپ کی رائے ہے تو پھر خراج نہ ادا کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 35616
٣٥٦١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن المغيرة عن إبراهيم قال: ذكر له أن أقوامًا يقولون: لا جهاد، فقال: هذا شيء عرض به الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ یوں کہتے ہیں کہ جہاد نہیں ہے ابراہیم نے فرمایا یہ چیز شیطان ان کے پاس لے کر آیا ہے۔
حدیث نمبر: 35617
٣٥٦١٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا الربيع بن (صبيح) (١) عن قيس بن سعد عن مجاهد قال: سألت ابن عمر عن الغزو مع أئمة الجور وقد أحدثوا فقال: اغزوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ظالم و جابر حکمرانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہاد کرو۔
حدیث نمبر: 35618
٣٥٦١٨ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه عن زائدة عن ليث قال: كان مجاهد يغزو مع بني مروان، وكان عطاء لا يرى (به) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بنو مروان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور حضرت عطاء نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 35619
٣٥٦١٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: خرج على الناس بعث زمن الحجاج فخرج فيه عبد الرحمن بن يزيد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حجاج کے دور میں لوگ جب جہاد کیلئے نکلے تو حضرت عبدالرحمن بن یزید بھی اس میں نکلے۔