کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ: جو جنگ کے ختم ہونے کے بعد آئے اس کو غنیمت میں حصہ نہ ملے گا
حدیث نمبر: 35443
٣٥٤٤٣ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب الأحمسي قال: غزت بنو عطارد مائة من أهل البصرة وأمدوا عمارا من الكوفة، فخرج عمار قبل الوقعة فقال: (نحن) (٢) (شركاؤكم) (٣) في الغنيمة، فقام رجل من بني عطارد فقال: أيها العبد المجدوع، وكانت أذنه قد أصيبت في سبيل اللَّه -أتريد أن نقسم لك غنيمتنا، فقال عمار: عيرتموني (بأحب) (٤) (أذني) (٥) أو بخير أذني، (قال) (٦): وكتب في ذلك إلى عمر فكتب عمر أن الغنيمة لمن شهد الوقعة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب الاحمسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اھل بصرہ میں سے بنو عطارد نے جنگ میں شرکت کی، اور انہوں نے کوفہ سے حضرت عمامہ کی مدد کی، حضرت عمار لڑائی سے پہلے ہی نکل گئے، پھر بعد میں فرمایا کہ ہم لوگ بھی غنیمت میں تمہارے ساتھ شریک ہیں، بنو عطارد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا ! اے وہ شخص جس کا کان کٹا ہوا ہے، حضرت عمار کا کان جہاد میں شہید ہوا تھا، کیا تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی غنیمت میں سے تمہیں حصہ دیں ؟ حضرت عمار نے فرمایا، تو نے مجھے میرے بہترین اور پسندیدہ کان سے عار دیا ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق لکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جوابا تحریر کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا جو لڑائی اور فتح میں شریک ہو۔
حدیث نمبر: 35444
٣٥٤٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: قال: عمر إنما الغنيمة لمن شهد الوقعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، غنیمت میں اس کا حصہ ہے جو لڑائی میں شرکت کرے۔
حدیث نمبر: 35445
٣٥٤٤٥ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) شعبة عن الحكم عن إبراهيم أن ⦗٤٠٧⦘ قومًا قدموا على علي يوم الجمل بعد الوقعة فقال: هؤلاء (المحرومون) (٢) فأقسم لهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ جنگ جمل کے دن کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لڑائی کے بعد حاضر ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ محرومین ہیں، (آپ نے قرآن پاک کی آیت للسائل والمحروم کی طرف اشارہ فرمایا) پھر ان کو غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا۔
حدیث نمبر: 35446
٣٥٤٤٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (قيس) (١) بن مسلم عن الحسن بن محمد قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية فأصابوا غنيمة فجاء بعدهم قوم فنزلت: ﴿فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ (٢٤) لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (٢) [المعارج: ٢٤ - ٢٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس نے ایک سریہ بھیجا، ان کو مال غنیمت ہاتھ آیا، پھر ان کے بعد کچھ لوگ اور آگئے، تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی { فِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ }۔
حدیث نمبر: 35447
٣٥٤٤٧ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن قيس بن كركم عن ابن عباس: ﴿لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾، قال: المحارف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن پاک کی آیت { لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے محروم مراد ہے۔
حدیث نمبر: 35448
٣٥٤٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن قيس بن كركم عن ابن عباس: ﴿لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾، قال: المحروم: (المحارف) (١) الذي ليس له في الإسلام سهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کی آیت { لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ } میں محروم کی تفسیر کے متعلق فرماتے ہیں کہ محروم وہ شخص ہے جس کے لیے اسلام میں غنیمت کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35449
٣٥٤٤٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: بعث رسول اللَّه ﷺ طلائع فغنم النبي ﷺ غنيمة فقسم بين الناس ولم يقسم للطلائع شيئًا، فلما ⦗٤٠٨⦘ قدمت الطلائع قالوا: قسم (الفيء) (١) ولم يقسم لنا فنزلت: ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ﴾ (٢) [آل عمران: ١٦١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ ابتدائی دستے روانہ فرمائے، پھر ان کے جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ہاتھ آیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے درمیان غنیمت کا مال تقسیم فرمایا اور ان کو کچھ نہ دیا، جب وہ دستے واپس آئے تو کہنے لگے کہ اللہ کے نبی نے غنیمت کو تقسیم فرما دیا ہے مگر ہمیں حصہ نہ دیا، تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی { وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَغُلَّ }
حدیث نمبر: 35450
٣٥٤٥٠ - حدثنا وكيع قال، ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: المحروم الذي ليس له في الغنيمة شيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رضی اللہ عنہالمحروم کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ شخص ہے جس کیلئے غنیمت میں حصہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35451
٣٥٤٥١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: (المحروم) (١) الذي ليس له في الغنيمة شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔