کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جوشخص مشرکین کو دعوت نہ دینے کی رائے رکھتا ہے
❮
❯
٣٥٢٧٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا (سفيان عن) (١) منصور عن إبراهيم عن الحسن [قال: سألته عن دعاء الديلم؟ فقال: قد علموا ما يدعون إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے دیلم والوں کو دعوت دینے سے متعلق پوچھا : ؟ تو آپ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تحقیق وہ جان چکے ہیں جس بات کی ان کو دعوت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35278
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35278، ترقيم محمد عوامة 33739)
٣٥٢٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة] (١) أنه كان لا يرى بأسًا أن لا يدعو المشركين إذا لقيهم، وقال: إنهم قد عرفوا دينكم وما تدعونهم إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ جب مسلمان مشرکین سے ملیں اور ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت نہ دیں۔ اس لیے کہ وہ تمہارے دین کو اور جن باتوں کی طرف تم نے ان کو دعوت دینی ہے وہ اس کو جان چکے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35279
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35279، ترقيم محمد عوامة 33740)
٣٥٢٨٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو هلالى عن الحسن أنه سئل عن العدو: هل يدعون قبل القتال؟ قال: قد بلغهم الإسلام منذ بعث اللَّه محمدا ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے دشمن کے متعلق پوچھا گیا : کہ کیا ان کو قتال سے قبل دعوت دی جائے گی ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جب سے اللہ رب العزت نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے تحقیق ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35280
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35280، ترقيم محمد عوامة 33741)