کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
حدیث نمبر: 35220
٣٥٢٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن سعيد بن جبلة عن طاوس أن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه بعثني بالسيف بين يدي الساعة، وجعل رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذل والصغار على من خالفني، ومن تشبه بقوم فهو منهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے تلوار دے کر بھیجا ہے قیامت سے پہلے اور اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے مقر ر کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ذلت اور رسوائی مقدر کی ہے اس شخص کے نصیب میں جو میری مخالفت کرے گا۔ اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔
حدیث نمبر: 35221
٣٥٢٢١ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن الأوزاعي عن سعيد بن جبلة عن طاوس قال: قال رسول اللَّه ﷺ، ثم ذكر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 35222
٣٥٢٢٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الخليل عن علي قال: كان المغيرة بن شعبة إذا غزا مع النبي ﷺ حمل معه رمحا، فإذا (رجعنا) (١) طرحه كي يحمل له فقال (له) (٢) علي: لأذكرن هذا للنبي ﷺ فقال: لا تفعل، فإنك إن فعلت لم ترفع ضالة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں جاتے تو اپنے ساتھ ایک نیزہ رکھتے۔ جب واپس لوٹتے تو اس کو پھینک دیتے تاکہ کوئی اسے ان کا سمجھ کر اٹھا لے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ضرور بالضرور یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کروں گا اس پر انہوں نے فرمایا : تم ایسا مت کرنا۔ اس لیے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو گمشدہ چیز نہیں اٹھائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 35223
٣٥٢٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا مصعب بن سليم قال: سمعت أنس بن مالك (يقول: إن أبا موسى أراد أن يستعمل البراء بن مالك) (١) فأتى فقال له البراء بن مالك: أعطني سيفي (وترسي) (٢) ورمحي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو امیر بنانے کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا اور حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : مجھے میری تلوار ، میری ڈھال اور میر انیزہ دے دو ۔
حدیث نمبر: 35224
٣٥٢٢٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن إسماعيل بن أمية عن مكحول قال: إنما كانت الحربة تحمل مع النبي ﷺ ليصلي إليها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سامنے رکھ کر نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 35225
٣٥٢٢٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مصعب بن سليم الزهري قال: ثنا أنس بن مالك قال: لما بعث أبو موسى على البصرة، كان ممن بعث البراء بن مالك، وكان من (وزرائه) (١)، فكان يقول له: اختر عملا، فقال البراء: ومعطيَّ أنت ما سألتك؟ قال: نعم، قال: أما إني لا أسألك إمارة مصر ولا جباية خراج، ولكن ⦗٣٤١⦘ أعطني قوسي وفرسي ورمحي و (سيفي) (٢) و (ذرني) (٣) إلى الجهاد في سبيل اللَّه، فبعثه على جيش فكان أول من قتل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کے ساتھ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا گیا۔ اور یہ ان کے وزیروں میں سے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہان سے فرمایا کرتے تھے ۔ تم بھی کوئی کام اختیار کرلو۔ اس پر حضرت براء رحمہ اللہ نے فرمایا : کیا جو عہدہ میں تم سے مانگوں گا وہ تم مجھے دو گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : بلاشبہ میں تم سے شہر کی نگرانی اور خراج کی وصول یابی کا عہدہ نہیں مانگتا لیکن تم مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دو ، اور مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے چھوڑ دو پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لشکر پر امیر بنا کر بھیج دیا تو یہ شہید ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔
حدیث نمبر: 35226
٣٥٢٢٦ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا عبد الرحمن بن ثابت قال: ثنا حسان ابن عطية عن أبي منيب الجرشي عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه جعل رزقي تحت (ظل) (١) رمحي، وجعل الذلة والصغار على من خالف أمري، (ومن) (٢) تشبه بقوم (فهو) (٣) منهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ رب العزت نے میرا رزق نیزے کے سائے کے نیچے مقرر کیا ہے۔ اور اللہ رب العزت نے ذلت اور رسوائی اس شخص کے مقدر کی ہے۔ جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا، اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان میں سے ہوگا۔