کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
٣٥٢١٦ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن صدقة بن يسار عن القاسم قال: كان النبي ﷺ يبرد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قاصد کے ذریعے پیغام بھیجا کرتے تھے۔
٣٥٢١٧ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى أن عمر بن عبد العزيز كان يبرد فحمل مولى له رجلًا على البريد بغير إذنه، قال: فدعاه فقال: لا (تبرح) (١) حتى ⦗٣٣٩⦘ (تقومه) (٢) ثم (تجعله) (٣) في بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا کرتے تھے ۔ آپ رحمہ اللہ کے ایک غلام نے ڈاک کی سواری پر ایک شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر سوار کردیا۔ آپ رحمہ اللہ نے اس کو بلایا اور فرمایا : تو اس سے جدا مت ہو یہاں تک کہ اس کی قیمت ادا کر، پھر اس کی قیمت بیت المال میں ڈال دے۔
٣٥٢١٨ - حدثنا وكيع عن هشام عن يحيى بن أبي كثير أن النبي ﷺ قال لأمرائه: "إذا أبردتم إلي بريد فأبردوه حسن الوجه حسن الاسم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مقرر کردہ امیروں سے ارشاد فرمایا : جب تم میری طرف کسی قاصد کے ذریعہ ڈاک بھیجو تو تم لوگ خوبصورت چہرے والے اور خوبصورت نام والے کو بھیجو۔
٣٥٢١٩ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل (بن) (١) أبي إسحاق عن أبيه أن معاوية كتب إلى عبد الرحمن بن خالد أن احمل إلي جريرا على البريد فحمله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رحمہ اللہ نے حضرت عبد الرحمن بن خالد رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ تم جریر کو پیغام دے کر میری طرف بھیجو۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو بھیج دیا۔