حدیث نمبر: 33776
٣٣٧٧٦ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: وهبت ميمونة ولاء سليمان بن يسار لابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ نے سلیمان بن یسار کی ولاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ہبہ کردی تھی۔
حدیث نمبر: 33777
٣٣٧٧٧ - حدثنا جرير عن منصور قال: سألت إبراهيم عن رجل أعتق رجلًا فانطلق المعتق فوالى غيره، قال: ليس له (ذاك) (١) إلا أن يهبه المعتق.
مولانا محمد اویس سرور
منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک آدمی کو آزاد کیا، پھر آزاد شدہ شخص گیا اور دوسرے آدمی کو اپنا ولی بنا لیا، فرمایا کہ یہ اس کے لئے جائز نہیں مگر یہ کہ آزاد کرنے والا اس کو ہبہ کر دے۔
حدیث نمبر: 33778
٣٣٧٧٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن عمرو بن حزم أن امرأة من محارب وهبت ولاء عبدها لنفسه (١)، وأعتقته وأعتق نفسه، قال: فوهب نفسه لعبد الرحمن بن عمرو بن حزم، قال: وماتت فخاصم الموالي (إلى) (٢) عثمان، قال: فدعا عثمان بالبينة على ما قال، قال: فأتاه بالبينة فقال عثمان: اذهب (فوال) (٣) من شئت، قال أبو بكر: فوالى عبد الرحمن (بن عمرو) (٤) بن حزم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابوبکر بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ قبیلہ محارب کی ایک عورت نے اپنے غلام کی ولاء ان کو ہبہ کردی تھی اور اس کو آزاد کردیا اور ان کو بھی آزاد کردیا، کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنی ولاء عبد الرحمن بن عمرو بن حزم کو ہبہ کردی، اور وہ عورت مرگئی تو موالی نے حضرت عثمان کے سامنے قضیہ پیش کیا تو حضرت عثمان نے اس پر بینہ طلب کیا، وہ بینہ لائے ، تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ جاؤ اور جس سے چاہو ولاء کرو، ابوبکر فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبد الرحمن بن عمرو بن حزم سے موالاۃ کرلی۔
حدیث نمبر: 33779
٣٣٧٧٩ - أبو داود الطيالسي عن شعبة قال: أخبرني منصور عن إبراهيم والشعبي أنهما قالا: لا بأس ببيع ولاء السائبة وهبته.
مولانا محمد اویس سرور
منصور روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم اور شعبی نے فرمایا کہ سائبہ کی ولاء بیچنے اور ہبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، (” سائبہ “ جس کو اللہ کے نام پر آزاد کیا گیا ہو، مترجم)
حدیث نمبر: 33780
٣٣٧٨٠ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن قتادة أن امرأة وهبت ولاء مواليها لزوجها فقال هشام بن هبيرة: أما أنا فأراه لزوجها ما عاش، فإذا مات رددته إلى ورثة المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے موالی کی ولاء اپنے شوہر کو ہبہ کردی تو ہشام بن ہبیرہ نے کہا کہ میری رائے میں وہ اس کے شوہر کے لئے ہے جب تک وہ زندہ رہے، جب وہ مرجائے گا تو میں اس کو عورت کے ورثہ کی طرف لوٹاؤں گا۔
حدیث نمبر: 33781
٣٣٧٨١ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس إذا أذن (المولى) (١) أن يوالي غيره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی دوسرے شخص سے موالاۃ کرے جبکہ مولیٰ نے اجازت دے دی ہو۔
حدیث نمبر: 33782
٣٣٧٨٢ - حدثنا ابن علية عن (سعيد) (١) عن قتادة وجدته في مكان آخر عن سعيد بن المسيب إنه كان لا يرى بأسا ببيع الولاء إذا كان من مكاتبة، ويكرهه إذا كان عتقًا.
مولانا محمد اویس سرور
سعید قتادہ سے روایت کرتے ہیں اور ایک مقام پر میں نے یہ روایت سعید بن مسیب سے پائی ہے کہ وہ ولاء کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جب کہ وہ اس کے مکاتب کی ہو ۔ اور اس کو اس صورت میں ناپسند سمجھتے تھے جبکہ وہ آزادی کی صورت میں ہو۔
حدیث نمبر: 33783
٣٣٧٨٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور قال: سألت إبراهيم عن بيع الولاء فقال: هو محدث.
مولانا محمد اویس سرور
منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے ولاء کو بیچنے کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 33784
٣٣٧٨٤ - (١) حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سليمان عن إبراهيم قال: لا ترث النساء من الولاء إلا ما أعتقن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ایک دوسری سند سے فرماتے ہیں عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر جن کو وہ آزاد کریں۔