کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو مر جائے اور کوئی عصبہ یا وارث چھوڑ کر نہ جائے، اس کا وارث کون ہو گا؟
حدیث نمبر: 33753
٣٣٧٥٣ - حدثنا عبد السلام عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي فروة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن عمرو بن العاص كتب إلى عمر في (الراهب) (١) يموت ليس له وارث، فكتب إليه أن (أعط) (٢) ميراثه الذين كانوا يؤدون جزيته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص نے حضرت عمر کو ایک راہب کے بارے میں لکھا جس کا کوئی وارث نہیں تھا، آپ نے فرمایا کہ اس کی میراث ان لوگوں کو دے دو جو اس کا جزیہ ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 33754
٣٣٧٥٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في (الذي) (١) يموت ليس له وارث، قال: ميراثه لأهل قريته يستعينون به في خراجهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مرجائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو، کہ اس کی میراث اس کی بستی والوں کے لئے ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خراج میں مدد حاصل کریں گے۔
حدیث نمبر: 33755
٣٣٧٥٥ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن مغيرة قال: سألت الحسن عن رجل بايع امرأة من أهل الذمة فكان لها عنده شيء فنبذها فلم يجدها: أيجعله في بيت مال المسلمين؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے اہل ذمہ میں سے ایک عورت سے بیعت کی تھی، اس عورت کی اس کے پاس کوئی چیز تھی، اس نے اس سے معاملہ ختم کردیا، پھر وہ عورت اس کو نہ ملی، کیا وہ آدمی اس چیز کو مسلمانوں کے بیت المال میں ڈال دے ؟ فرمایا جی ہاں !