کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آمی کا بیان جو مر جائے اور اس کا کوئی وارث معلوم نہ ہو
حدیث نمبر: 33746
٣٣٧٤٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الأصبهاني عن مجاهد بن وردان عن عروة بن الزبير عن عائشة أن مولى للنبي ﷺ وقع من نخلة فمات، وترك مالا ولم يدع ولدا ولا حميمًا، فقال النبي ﷺ: "أعطوا ميراثه رجلًا من أهل قريته" (١).
مولانا محمد اویس سرور
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مولیٰ ایک درخت سے گر کر مرگیا اور اس نے مال چھوڑا اور کوئی اولاد یا دوست نہیں چھوڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی میراث اس کے گاؤں والوں میں سے کسی کو دے دو ۔
حدیث نمبر: 33747
٣٣٧٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن محمد ابن عبد الرحمن بن ثوبان أن رجلًا من جرهم توفي بالسراة وترك مالًا، فكتب فيه إلى عمر، فكتب عمر إلى الشام فلم يجدوا بقي من جرهم واحد، فقسم عمر ميراثه في القوم الذين توفي فيهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ قبیلہ جرھم کا ایک آدمی مقام سراۃ میں فوت ہوگیا اور اس نے مال چھوڑا ، اس کے بارے میں حضرت عمر کو لکھا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف خط لکھا، لیکن قبیلہ جرھم کا کوئی آدمی نہیں ملا، تو حضرت عمر نے اس کی میراث ان لوگوں میں تقسیم فرما دی جن میں وہ فوت ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 33748
٣٣٧٤٨ - حدثنا بشر بن المفضل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبيه عن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل قال: مات مولى على عهد عثمان ليس له مولى، فأمر عثمان بماله فأدخل بيت المال (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن عمرو بن سہل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے زمانے میں ایک شخص مراجس کا کوئی مولیٰ نہیں تھا، آپ نے اس کی میراث کو بیت المال میں داخل فرما دیا۔
حدیث نمبر: 33749
٣٣٧٤٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق سئل عن رجل مات ولم يترك مولى عتاقة ولا وارثا قال: ماله حيث وضعه، فإن لم يكن أوصى بشيء فماله في بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ مسروق سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو مرگیا تھا اور مرتے وقت اس نے ” مولیٰ عتاقہ “ یا کوئی وارث نہیں چھوڑا ، آپ نے فرمایا کہ اس کا مال وہیں لگے گا جہاں اس نے لگایا، اگر اس نے کوئی وصیت نہیں کی تھی تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 33750
٣٣٧٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن أبي بكر بن أحمر عن عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ (فجاءه) (١) رجل فقال: يا رسول اللَّه، إن عندي ميراث رجل من الأزد، وإني لم أجد أزديا أدفعه إليه، قال: " (فانطلق) (٢) فالتمس أزديا عامًا أو حولًا فادفعه إليه"، قال: فانطلق ثم أتاه في (العام) (٣) (السابع) (٤) فقال: يا رسول اللَّه ما وجدت أزديا أدفعه إليه، قال: "انطلق إلى أول خزاعي فادفعه إليه"، قال: فلما (قفى) (٥) قال: "علي به"، قال: "فاذهب فادفعه إلى أكبر خزاعة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس قبیلہ ازد کے ایک شخص کی میراث ہے اور مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو میں دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور کسی ازدی کو ایک سال تک تلاش کرو اور اس کو دے دو ، چناچہ وہ ساتویں سال آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو دے دوں، فرمایا کہ پھر سب سے پہلے خزاعی کے پاس جاؤ جو تمہیں ملے اس کو دے دو ، کہتے ہیں کہ جب وہ شخص جانے کے لئے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس لاؤ، اور فرمایا کہ اس کو قبیلہ خزاعہ کے سب سے بڑے کو دے دو ۔
حدیث نمبر: 33751
٣٣٧٥١ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار عن يحيى بن جعدة عن عمر أن رجلًا مات ولم يترك عصبة فقال عمر: يرثه (الذي) (١) كان يغضب لغضبه وجيرانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن جعد ہ حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی مرگیا اور اس نے عصبہ نہیں چھوڑے، حضرت عمر نے فرمایا کہ اس کا وارث وہ شخص ہوگا جس کو اس کے غصہ آنے کے وقت غصہ آتا تھا، اور اس کے پڑوسی۔
حدیث نمبر: 33752
٣٣٧٥٢ - حدثنا يزيد (١) قال: ثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن سليمان بن يسار قال: توفي رجل من الحبشة فأتي رسول اللَّه ﷺ بميراثه قال: "انظروا هل (له) (٢) وارث؟ " فلم يجدوا له وارثًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "انظروا (من هاهنا) (٣) من مسلمي الحبشة فادفعوا إليهم ميراثه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حبشہ کا ایک آدمی فوت ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میراث لائی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو کیا اس کا کوئی وارث ہے ؟ لوگوں کو اس کا کوئی وارث نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہاں حبشہ کے مسلمانوں میں سے کون ہے ؟ اس کو اس کی میراث دے دو ۔