کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ جب عصبہ میں کوئی ماں کے زیادہ قریب ہو تو مال اسی کے لئے ہو گا
حدیث نمبر: 33708
٣٣٧٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن أبي وائل قال: كتب عمر إلى عبد اللَّه إذا كان أحد العصبة أقرب بأم فأعطه المال (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر نے حضرت عبد اللہ کو لکھا کہ جب عصبہ میں کوئی ماں کے زیادہ قریب ہو تو مال اسی کو دو ۔
حدیث نمبر: 33709
٣٣٧٠٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال قضى رسول اللَّه ﷺ بالدين قبل الوصية وأنتم تقرأون: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [النساء: ١١]، وأن (أعيان) (١) (بني) (٢) الأم يتوارثون دون بني العلات، الإخوة من الأب والأم دون الإخوة من الأب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کا وصیت سے پہلے فیصلہ فرمایا اور تم یہ آیت پڑھتے ہو (مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا ، أَوْ دَیْنٍ ) اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ باپ شریک۔
حدیث نمبر: 33710
٣٣٧١٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك بن (مغول) (١) قال: سألت الشعبي عن بني عم لأب وأم إلى ثلاثة، وعن بني عم لأب إلى اثنين فقال الشعبي: المال لبني العلات.
مولانا محمد اویس سرور
مالک بن مِغْول فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے تین حقیقی چچا زاد اور دو باپ شریک چچا زاد کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مال باپ شریک چچا زادوں کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 33711
٣٣٧١١ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: قال عمر: إذا كانت العصبة أحدهم أقرب بأم، (فالمال له في الولاء) (١) (٢)
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب عصبہ میں کوئی ماں کے زیادہ قریب ہو تو ولاء میں مال اسی کے لئے ہے۔